دیکھورُسوانہ کرنا

ہم دو ہی بہنیں تھیں۔ مجھ کو اپنی بہن گل بہشت سے بہت پیار تھا۔ وہ مجھ سے دس برس بڑی تھیں۔سچ کہوں میرے لئے بہن سے زیادہ ماں جیسا درجہ رکھتی تھیں۔ جن دنوں میں تین برس کی تھی والد صاحب کا انتقال ہو گیا۔ اماں بھر پور جوان بھی تھیں۔ بیوگی نے ان کو سہما کر رکھ دیا۔ ہمارے ایک تایا لندن میں مقیم تھے۔ وہاں پڑھنے گئے تھے پھر ایک گوری سے شادی کر لی۔ یہ شادی جلد ٹوٹ گئی اور ازدواجی سکون ان کو راس نہ آیا، پھر انہوں نے شادی نہ کی لیکن برطانیہ کی شہریت حاصل کر لی۔

Continue reading “دیکھورُسوانہ کرنا”

دو گز زمین کی کہانی

۱۸۵۷ء کی جنگ آزادی ختم ہو چکی تھی۔ انگریز بہادر اپنے کچھ ہندوستانی وفاداروں کی مدد سے بغاوت کچلنے میں کامیاب ہو چکا تھا۔ انگریز حکومت کے باغیوں کو سزائیں مل رہی تھیں۔ جگہ جگہ سر عام پھانسیاں دی جارہی تھیں۔ جو بچ گئے تھے وہ چھپتے پھر رہے تھے۔ ان لوگوں کی زمینیں اور جائدادیں ضبط کر لی گئی تھیں۔ انگریز بہادر کے وفادار ہندوستانی انعام سے نوازے جارہے تھے۔

Continue reading “دو گز زمین کی کہانی”

ماں کی دعا نہ لی

میں شروع ہی سے نٹ کھٹ اور شریر تھی۔ ایسی تو بچپن میں بہت سی لڑکیاں ہوتی ہیں لیکن میں ضدی بھی بلا کی تھی۔جب کوئی سوچ ذہن میں آجاتی تو پھر اس سے چھٹکارا پانا میرے بس میں نہ رہتا، ہر صورت اپنی خواہش کو پورا کرتی ، خواہ اس کے لیے کسی کو کتنا ہی پریشان کیوں نہ ہونا پڑتا۔

Continue reading “ماں کی دعا نہ لی”

لاپرواہی

میرے گلی میں داخل ہوتے ہی یوں لگا جیسے کوئی آفت ٹوٹ پڑی ہو۔ ہر طرف ایک افراتفری کا ماحول تھا۔ کچھ لمحوں تک تو سمجھ ہی میں نہ آیا کہ آخر کیا ہوا ہے ؟ جیسے جیسے میں آگے بڑھتا گیا چیخ وپکار کی آوازیں تیزی سے کانوں میں آنے لگیں۔ میں نے کچھ قدم تیز کیے اور چاہا کہ معلوم کیا جائے کہ آخر معاملہ کیا ہے ؟ میں نے سوچ کر محلے کے ایک بچے سے پوچھا کہ کیا ہوا، یہ شور وغل کیسا ہے؟ تو پتہ چلا کہ ” شرجیل” کا ایکسیڈنٹ ہو گیا ہے اور حادثہ اتنا شدید ہوا ہے کہ جان خطرے میں ہے۔

Continue reading “لاپرواہی”

قرض

دانیال ، شہر کا ایک بڑا اور مشہور بزنس مین تھا۔ انتہائی دولت مند ہونے کے باوجود وہ ذرا مغرور نہیں تھا، بلکہ وہ بہت نیک اور ایماندار شخص تھا۔ ایک روز وہ اپنی شاندار گاڑی میں دفتر سے گھر جا رہا تھا، اس نے گاڑی ایک زیر تعمیر عمارت کے پاس روکی ۔ جہاں بہت سے مزدور کام کر رہے تھے، انہی مزدوروں میں اس کی نظر ایک کم عمر لڑکے پر پڑی جو اپنی ناتوانی کے باوجود اینٹیں ایک جگہ سے اٹھا کر دوسری جگہ رکھ رہا تھا، نہ جانے کن مجبوریوں کی وجہ سے وہ اس عمر میں مزدوری کرنے پر مجبور تھا۔ دانیال اسے کافی دیر تک کام کرتے دیکھتا رہا پھر اس کا ذہن ماضی کی گہرائیوں میں ڈوبتا چلا گیا۔

Continue reading “قرض”

برُی بات

”ارم تمہیں پتہ ہے کہ کلاس میں ایک نئی لڑکی آئی ہے۔” فاطمہ نے ارم کو بتایا تو ساتھ کھڑی آئمہ نے بھی یہ بات سن لی۔ آئمہ فوراً بولی۔”کیا نام ہے اس کا؟” آمنہ نام ہے اس کا۔ اور آئمہ کل وہ داخلے کے لیے اپنی امی کے ساتھ آئی تھی۔ میں نے اپنی پوری زندگی میں ایسی بدصورت لڑکی کبھی نہیں دیکھی۔

Continue reading “برُی بات”

سوچ کی تبدیلی

آج تجمل حسین صاحب لاہور اپنے بڑے بیٹے کے پاس جا رہے تھے۔ وہ گزشتہ تین سالوں سے اپنے چھوٹے بیٹے کے ساتھ ملتان میں رہائش پذیر تھے۔ جب وہ وہاں پہنچے تو سب گھر والوں نے انہیں خوش آمدید کہا اور ان کی خاطر داری شروع کر دی۔ ان کو دیکھ کر ان کے پوتی پوتے بہت خوش تھے۔ انہوں نے دادا جان سے فرمائش کی۔ دادا جان ! آج کوئی کہا نی سنا دیں۔ دادا جان اب پریشان تھے کہ بچے تو اب بڑے ہو گئے ہیں، ان کو کون سی کہانی سنائی جائے۔

Continue reading “سوچ کی تبدیلی”