کام کی باتیں

چودہ سو سال پہلے
دانشور تو کہتے ہیں کہ ہمیں چودہ سو سال پیچھے دھکیلا جا رہا ہے۔ لیکن ہم تو اسے اپنی خوش بختی خیال کرتے ہیں کہ اگر کوئی ہمیں چودہ سو سال پہلے کا معاشرہ کہیں سے لا دے۔
ہم باز آئے میڈیا کی ترقی سے، ہماری توبہ اس جدید نظام سے، ہم ان ساری ایجادات سے مرحوم بھلے، ہم ان سے دستبردار ہوتے ہیں۔ تہذیبِ حاضر ہم سے اپنی بجلی چھین لے، گرامو فون واپس لے لے، ہوائی جہاز ضبط کرلے، ایٹمی صلاحیت اپنے پاس رکھ لے، مواصلات کا نظام معطل کر دے۔ ہمیں یہ سب منظور ہے۔ مگر ہمیں کسی طرح ہمارا کھویا ہوا سکون واپس مل جائے۔ بھائی چارہ دستیاب ہو جائے، اپنے پرائے کی پہچان نصیب ہو جائے، خوفِ خدا اور آخرت کا ڈر عطا ہو جائے، قناعت کی دولت اور سادگی کی لذت کہیں سے ہاتھ آجائے اور اس کے لیے ظاہر ہے ہمیں چودہ سو سال پیچھے جانا پڑے گا۔

Continue reading “کام کی باتیں”

کیا خواتین اچھی ڈرائیور نہیں ہوتیں؟

خواتین کو زندگی کے ہر مرحلے پر یہی شکوہ رہتا ہے کہ مردوں کے اس معاشرے میں ان کے ساتھ امتیازی سلوک برتا جاتا ہے۔ وہ کسی بھی میدان میں خواہ کتنی بھی اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کیوں نہ کرلیں، ان کی حوصلہ افزائی میں ہمیشہ بخل سے کام لیا جاتا ہے۔ یہ نظریہ سو فیصد سچائی پر مبنی نہ سہی لیکن اس میں بہر حال کچھ نہ کچھ صداقت ضرور ہے۔ کچھ خواتین کو واقعی اس سلسلے میں تلخ تجربات کا سامنا رہتا ہے اور مردوں کی جانب سے انہیں اکثر و بیشتر حوصلہ شکن تبصرے سننے کو ملتے ہیں۔ لیکن ایک معاملہ کم از کم ایسا ضرور ہے کہ جس کے لیے مردوں کی عورتوں پر تنقید کو درست قرار دیا جائے تو بے جا نہ ہوگا۔۔۔۔ اور وہ ہے خواتین کی ڈرائیونگ۔

Continue reading “کیا خواتین اچھی ڈرائیور نہیں ہوتیں؟”