پھلوں کی فریاد

کیلا: مجھے بچے بوڑھے، جن کے دانت نہیں ہوتے وہ بھِی کھا جاتے ہیں جبکہ دوسرے پھل اپنی کچھ سختی کے باعث ان بے دانتوں سے بچ جاتے ہیں۔ مجھے تو ہر چھوٹا، بڑا، بوڑھا اور دودھ کے دانتوں والا بھی ہپ ہپ کر کے کھا جاتا ہے۔ لیکن مجھے ایک بڑی خوشی حاصل ہے کہ میں تیز دھار والی چھری سے بچ جاتا ہوں۔

Continue reading “پھلوں کی فریاد”

پیسہ

ثناء اور حنا دونوں بہت اچھی دوست تھیں۔ ایک ساتھ اسکول آتی جاتیں۔ ثناء کا تعلق مذہبی گھرانے سے تھا، اس کے والد کلرک تھے۔ اس کے باوجود وہ چاہتے تھے کہ ان کے بچے تعلیم حاصل کریں جبکہ حنا کے والد ایک ادارے میں افسر تھے ان کے یہاں دولت کی ریل پیل تھی۔ اس لیے حنا کو تعلیم حاصل کرنے سے دلچسپی نہ تھی جبکہ ثناء اعلیٰ تعلیم حاصل کرکے گورنمنٹ جاب حاصل کرنا چاہتی تھی تاکہ اپنے خوابوں کی تکمیل کر سکے۔ نویں جماعت میں فیل ہونے کی وجہ سے حنا نے تعلیم کو خیر باد کہہ دیا۔ جب ثناء نے اس سے پوچھا تو اس نے مسکرا کر جواب دیا۔ ”تعلیم میں کیا رکھا ہے، میرے والد کے پاس پیسہ ہے۔ مجھے پڑھ کر کیا کرنا ہے، میں جب چاہوں ، ڈگری بنواسکتی ہوں۔”

Continue reading “پیسہ”

دہلیزِ بقا – صفحہ نمبر 1

جب کبھی میں پریشان ہوا کرتا تھا تو کراچی کی ایک بندرگاہ پر چلا جاتا وہاں جا کر مجھے بہت سکون ملتا تھا ایسا لگتا تھا جیسے کوئی انجانی طاقت مجھے اپنی جانب کھینچ رہی ہے کئی گھنٹوں بیٹھا سمندر کو تکتا رہتا کبھی خاموش سمندر میں پھیلا سکوت تو کبھی شور مچاتی لہروں کی بے چینی۔ ایسا ہی سکوت اور بے چینی مجھے بھی اپنے اندر محسوس ہوتی تھی ۔ میں ایک پڑھا لکھا اور معاشرے کے فرسٹ کلاس لوگوں کی فہرست میں شامل انسان تھا۔میرا اپنا امپورٹ ایکسپورٹ کا بزنس تھاکام کی نوعیت یہ تھی کہ اپنے بارے میں بھی سوچنے کا ٹائم نہیں ملتا تھا۔اور شاید یہی وجہ تھی تھی کہ مجھے ساحلِ سمندر پر جا کر سکون ملتا تھا اچانک سے یہ دنیا فانی محسوس ہونے گتی تھی دل کرتا تھا سب کچھ چھوڑ کر کہیں دور چلا جائوں ۔ کسی ایسی زندگی میں جہاں سکون ہی سکون ہو۔ مگر یہ زندگی مجھے کیسے مل سکتی ہے؟ کیا دنیامیں کوئی ایسی جگہ ہے جہاں یہ سب موجود ہو؟ جہاں حوس نہ ہو کچھ بھی پانے کی بس سکون ہو اور میرا قلب مطمئن ہو۔ ایسے کئی سوال یک دم میرے ذہن میں آتے اور مجھے سمندر کی لہروں کی طرح بے چین کر دیتے۔

Continue reading “دہلیزِ بقا – صفحہ نمبر 1”

ٹرین کا سفر

ہم اوکاڑہ میں اپنی نانی اماں کے گھر گرمیوں کی چھٹیاں منانے کے لئے آئے تھے، اب واپس جانے کی تیاری کر رہے تھے کہ اچانک جانے کے عین وقت ہم بچوں کو ٹرین میں جانے کا خیال آگیا اور ہم اپنے ماما پاپا کو ٹرین میں واپس ملتان جانے پر آمادہ کرنے لگے ، یوں ہمارے ماما پاپا مان گئے اور ہم اوکاڑہ سے ساہیوال گاڑی میں آئے اور آگے ٹرین میں بیٹھ گئے، یہ بھی بتاتی چلوں کہ ہم بہن بھائی ٹرین میں پہلی دفعہ سفر کر رہے تھے۔ بہت شوق تھا ٹرین میں سفر کرنے کا اور آج وہ شوق پورا ہو رہا تھا۔

Continue reading “ٹرین کا سفر”

مسیحا

2012 ء اختتام کو پہنچا تو عمر کے کزنز اور اس نے مل کر ایک پلان بنایا۔ وہ سب چاہتے تھے کہ کچھ ایسا کریں کہ 2012 ء یاد گار بن جائے۔ انہوں نے سوچا کہ کیوں نا ایک ڈنر کا اہتمام کیا جائے جس میں تمام رشتہ داروںکو مدعو کیا جائے، چنانچہ انہوں نے پیسے جمع کرنے شروع کر دیئے۔مختلف باتوں پر وہ امی، ابو یا خالہ، خالو سے پیسے بٹورتے رہتے تھے۔

Continue reading “مسیحا”

مولوی صاحب کا گھر

“ارے ۔۔۔ آج تم نے دعوت میں مولوی حبیب کے گھر والوں کو دیکھا؟ ان کی عورتیں کیسے عمدہ لباس پہنے بیٹھی تھیں۔ ماں نے اچھا کاٹن کا سوٹ پہن رکھا تھا اور بیوی نے بھی مشین کی کڑھائی کا جارجٹ کا سوٹ پہنا تھا۔ اور وہ بیٹی کا سوٹ ۔۔۔ ارے وہ تو وہی بنارسی سوٹ تھا جو پچھلے مہینے میں نے اپنی رابعہ کو دلایا ہے۔”

Continue reading “مولوی صاحب کا گھر”

اللہ سے زیادہ جراثیموں کا خوف

گاڑی کا وہ مکینک کام کرتے کرتے اٹھا۔ اس نے پنکچر چیک کرنے والے ٹب سے ہاتھ گیلے کئے اور ویسے ہی جا کر کھانا کھانا شروع کر دیا۔ میں نے اس سے کہا اللہ کے بندے “اس طرح گندے ہاتھوں سے کھانا کھائو گے تو بیمار پڑ جائو گے۔ ہزاروں جراثیم تمہارے پیٹ میں چلے جائیں گے۔ کیا تم نے اس طرح کی باتیں ڈیٹول یا صابن کے اشتہارات میں نہیں دیکھیں”۔

Continue reading “اللہ سے زیادہ جراثیموں کا خوف”