فساد کی اصلاح کرنے والے

حضرت عمروبن عوف رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہِ وآلہِ وسلم نے فرمایا کہ دینِ اسلام جب شروع ہوا تو وہ غریب یعنی لوگوں کے لئے اجنبی اور کسمپرسی کی حالت میں تھا، پس شادمانی ہو غرباء کے لیے اور غرباء سے مراد وہ لوگ ہیں جو اس فساد اور بگاڑ کی اصلاح کی کوشش کریں گے جو لوگ میرے بعد میری سنت اور میرے طریقہ میں پیدا کریں گے۔ (جامع ترمذی)۔
تشریح:
ہماری اردو زبان میں تو “غریب” نادار اور مفلس آدمی کو کہا جانے لگا ہے، لیکن اس لفظ کے اصل معنی ایسے پردیسی کے ہیں جس کا کوئی شناسا اور پرسانِ حال نہ ہو۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہِ وآلہِ وسلم کے اس ارشاد کا حاصل یہ ہے کہ جب اسلام کی دعوت کا آغاز ہوا تھا اور اللہ تعالٰی کے حکم سے آپ صلی اللہ علیہِ وآلہِ وسلم نے اہلِ مکہ کے سامنے اسلام پیش کیا تھا تو اس کی تعلیم اس کے عقائد، اس کے اعمال اور اس کا نظامِ زندگی لوگوں کے لیے بالکل نامانوس اور اجنبی تھے اور وہ اس وقت ایسے غریب الوطن پردیسی کی طرح تھا جس کا جاننے پہچاننے والا اور کوئی اس کی بات پوچھنے والا نہ ہو ۔۔۔۔۔۔ پھر رفتہ رفتہ یہ صورتِ حال بدلتی گئی اور لوگ اس سے مانوس ہوتے رہے اور اس کو اپناتے رہے، یہاں تک کہ ایک وقت آیا کہ پہلے مدینہ منورہ کے لوگوں نے اجتماعی طور پر اس کو سینے سے لگایا، اس کے بعد جلدی ہی قریباً پورے جزیرۃ العرب نے اس کو اپنا لیا، پھر دنیا کے دوسرے ملکوں نے بھی اس کو خوش آمدید کہا اور اس کو عام مقبولیت حاصل ہوئی لیکن جیسا کہ اوپر بھی عرض کیا گیا، اللہ تعالٰی کی طرف سے رسول اکرم صلی اللہ علیہِ وآلہِ وسلم پر منکشف کیا گیا تھا کہ جس طرح اگلی امتوں میں بگاڑ آیا، آپ کی امت میں بھی آئے گا اور اس کی غالب اکثریت گمراہانا رسوم اور غلط طور طریقوں کو اپنا لے گی اور اصل اسلام جس کی دعوت و تعلیم آپ صلی اللہ علیہِ وآلہِ وسلم نے دی تھی، بہت ہی کم لوگوں میں رہ جائے گی اور اپنے ابتدائی دور کی طرح وہ پھر غریب الوطن پردیسی کی طرح ہو جائے گا۔۔۔۔۔ تو رسول اکرم صلی اللہ علیہِ وآلہِ وسلم نے اس حدیث میں امت کو اس انقلاب حال کی اطلاع اور آگاہی دی ہے۔۔۔۔۔۔ اور ساتھ ہی ارشاد فرمایا ہے کہ امت کے اس عمومی فساد کے وقت اصل اسلام پر قائم رہنے والے جو وفادار امتی اس فساد و بگاڑ کی اصلاح کی کوشش اور بگڑی ہوئی امت کو اصل اسلام کی طرف لانے کی جدوجہد کریں گے ان کو شاباش اور مبارکباد۔ ۔۔۔۔ اس حدیث شریف میں دین کے ایسے وفادار خادموں کو رسول اکرم صلی اللہ علیہِ وآلہِ وسلم نے “غرباء” کا خطاب دیا۔ (معارف الحدیث)