رکاوٹیں دراصل رحمتیں ہیں

کسی نے بوٹے سے پوچھا :

بوٹے ، بوٹے یہ بتا تُو اگنے میں اتنی دیر کیوں لگاتا ہے؟

بوٹا بولا : اس لیے کہ زمین کی کشش مجھے اگنے نہیں دیتی۔

ہائیں ایسا ہے؟ بری بات۔

بوٹا بولا : نہ نہ زمین کو برا نہ کہو۔

کیوں نہ کہیں ؟

اس لیے کہ اگر زمین مجھے اگنے سے نہ روکے تو میں کبھی نہ اُگ سکوں۔

وہ کیا بات ہوئی؟

رکاوٹ نہ ہو تو حرکت ممکن ہی نہیں !

یہ قانون فطرت ہے صاحبو۔

رکاوٹیں دراصل رحمتیں ہیں۔ رکاوٹیں حرکت پیدا کرتی ہیں۔ جن کے پہنچ جانے کا خطرہ ہو ان کے راستے میں رکاوٹیں آتی ہیں۔

بڑے رکاوٹیں نہ کھڑی کریں تو چھوٹوں میں احتجاج پیدا نہ ہو۔ Revolt نہ ہو۔ حرکت پیدا نہ ہو۔

اور حرکت نہ ہو تو زندگی نہ ہو۔ کچھ بھی نہ ہو۔

یہ دنیا تصویر کی طرح فریم میں ٹنگی رہے۔

یہ زندگی کیا ہے؟

قیام اور حرکت کا اک کھیل ہی تو ہے۔

کبھی قیام آ جاتا ہے اور آتے ہی حرکت پر دفعہ 144 لگا دیتا ہے۔

خبردار ! حرکت نہ کرنا ۔۔۔ حرکت گناہ ہے ۔۔۔ حرکت شیطانیت کا کھیل ہے !

پھر حرکت کا ریلا آتا ہے ، سب کچھ توڑ پھوڑ کر رکھ دیتا ہے۔

اقتباس : “تلاش” از ممتاز مفتی