کیا خواتین اچھی ڈرائیور نہیں ہوتیں؟

خواتین کو زندگی کے ہر مرحلے پر یہی شکوہ رہتا ہے کہ مردوں کے اس معاشرے میں ان کے ساتھ امتیازی سلوک برتا جاتا ہے۔ وہ کسی بھی میدان میں خواہ کتنی بھی اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کیوں نہ کرلیں، ان کی حوصلہ افزائی میں ہمیشہ بخل سے کام لیا جاتا ہے۔ یہ نظریہ سو فیصد سچائی پر مبنی نہ سہی لیکن اس میں بہر حال کچھ نہ کچھ صداقت ضرور ہے۔ کچھ خواتین کو واقعی اس سلسلے میں تلخ تجربات کا سامنا رہتا ہے اور مردوں کی جانب سے انہیں اکثر و بیشتر حوصلہ شکن تبصرے سننے کو ملتے ہیں۔ لیکن ایک معاملہ کم از کم ایسا ضرور ہے کہ جس کے لیے مردوں کی عورتوں پر تنقید کو درست قرار دیا جائے تو بے جا نہ ہوگا۔۔۔۔ اور وہ ہے خواتین کی ڈرائیونگ۔

تاہم اگر کسی خاتون ڈرائیور سے بات کی جائے تو وہ یہی بیان کرتی نظر آئے گی کہ گاڑی ڈرائیو کرتے وقت اسے دوسروں کی مانند ٹریفک جام، ٹوٹی پھوٹی سڑکوں اور غلط اوور ٹیکنگ کا سامنا تو کرنا ہی پڑتا ہے لیکن عورت ہونے کے سبب مرد ڈرائیوروں کی استہزائیہ اور ان کے بے ہودہ فقرے بھی برداشت کرنے پڑتے ہیں۔یہی نہیں بلکہ اکثر چھچھورے اور بدتہذیب قسم کے افراد گاڑی ڈرائیو کرنے والی خواتین کو گاڑی غلط اوور ٹیک کرکے ڈرانے اور ہراساں کرنے کی کوشش بھی کرتے ہیں۔ گو کہ یہ تمام باتیں غلط نہیں، اس کے باوجود اکثریت کا خیال یہی ہے کہ بطور ڈرائیور کسی خاتون پر مکمل بھروسہ نہیں کیا جا سکتا۔ وہ کسی بھی وقت گھبراہٹ میں کوئی نہ کوئی غلطی ضرور کر سکتی ہے۔ لیکن بیشتر خواتین گھبراہٹ میں کی جانے والی کسی غلطی کا ذمہ دار بھی مرد ڈرائیور کو ہی ٹھہراتی ہیں جو انہیں غلط اوور ٹیک کرتے ہیں اور ہمہ وقت انتہائی جلد بازی کا شکار رہتے ہیں۔

خواتین ڈرائیورز پر کئی الزامات ہیں، جو ظاہر ہے کہ مردوں کی جانب سے ان پر عائد کیے جاتے ہیں، مثلاً ان کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ گاڑی ڈرائیو کرتے وقت بھی آئینے میں اپنا میک اپ دیکھتی جاتی ہیں اور کبھی کبھی تو اپنا میک اپ درست بھی کرنے لگتی ہیں، اسی وجہ سے اکثر حادثات بھی ہو جاتے ہیں۔ وہ گاڑی بہت آہستہ چلاتی ہیں۔ وہ دائیں جانب والی لین کو بلاک کر دیتی ہیں جو تیز رفتار گاڑیوں کے لیے مخصوص ہوتی ہے۔ ان کو گاڑی پارک کرنی نہیں آتی، وہ ان جگہوں پر بھی گاڑی کو ترچھا ہی پارک کرتی ہیں جہاں اسے متوازی طور پر پارک کیا جا سکتا ہے۔ خواتین کو راستوں اور سمتوں کا شعور نہیں ہوتا۔ انہیں گاڑی ریورس کرتے وقت بھی جگہ کے بارے میں درست اندازہ نہیں ہوتا۔ یہ وہ خالصتاً مردانہ خیالات ہیں جو وقتاً فوقتاً مردوں کی جانب سے ہم پر آشکار ہوئے ہیں۔۔۔۔ لیکن چونکہ ہمارا تعلق ایک صنفِ نازک سے ہے اس لیے فطری طور پر ہمارے دل میں یہ خواہش ابھری کہ اس سلسلے میں چند خواتین ڈرائیورز کی رائے معلوم کی جائے کہ وہ اپنی صفائی میں کیا کہتی ہیں۔

سو ہم نے اپنے جاننے والی کچھ ایسی خواتین سے گفتگو کی جو ڈرائیو کرتی ہیں اور ساری باتیں ان کے گوش گزار کیں۔ پوری بات سننے کے بعد پہلے الزام کو تو سب کی سب خواتین نے سختی سے مسترد کر دیا اور کہا کہ اس سے زیادہ احمقانہ بات تو کوئی ہو ہی نہیں سکتی کہ خواتین ڈرائیونگ کے دوران میک اپ کرتی ہیں۔۔۔۔ کوئی عورت اگر اسٹئیرنگ وہیل تھامتی ہے تو اس میں اتنی عقل ضرور ہوگی کہ وہ اس قسم کی حرکت نہ کرے۔ دوسرے الزام کے جواب میں کہ خواتین آہستہ گاڑی چلاتی ہیں، خواتین کی متفقی رائے یہ تھی کہ تیز رفتار سے اندھا دھند گاڑی ڈرائیو کرنے والے مردوں کے مقابلے میں ہم کم از کم احتیاط کے ساتھ اور دیکھ بھال کر تو گاڑی چلاتے ہیں۔ لہذا یہ کوئی برائی نہیں بلکہ اچھائی ہے۔ تیسرا الزام کے خواتین فاسٹ ٹریک کو بلاک کر دیتی ہیں۔ یہ بھی پیشتر خواتین کی رائے کے مطابق کوئی معقول الزام نہیں ہے کیونکہ وہ اگر تیز رفتار ٹریک پر اپنی گاڑی لاتی ہیں تو اس کی رفتار بھی مناسب رکھتی ہیں، دوسرے یہ کہ اگر کوئی ان سے راستہ مانگتا ہے اور پیچھے سے ہارن دیتا ہے تو وہ مردوں کی طرح ڈھٹائی سے کام لینے کے بجائے اسے راستی دے دیتی ہیں۔ اس کے علاوہ یہ بھی درست نہیں کہ صرف خواتین کو ہی سمتوں کا شعور نہیں ہوتا، بہت سے مرد بھی ایسے ہونگے جنہیں سمتوں اور راستوں کا زیادہ علم نہیں۔ البتہ ایک بات ایسی تھی جس پر تمام خواتین نے زیادہ زور نہیں دیا کہ ‘وہ بالکل درست پارکنگ کر سکتی ہیں، کون کہتا ہے کہ وہ ترچھی پارکنگ کرتی ہیں’۔ ۔۔۔ ‘ اس بارے میں بات کرتے ہوئے ایسا محسوس ہوا کہ جیسے خواتین کو اپنی اس صلاحیت پر کچھ نہ کچھ شبہ ہے۔ خیر ہم نے بھی زیادہ تجسس میں پڑنا مناسب نہیں سمجھا کہ آخر انہیں اپنی اس واحد صلاحیت پر ہی کیوں بھروسہ نہیں۔۔۔اور اس کی وجہ یہ ہے کہ ہم خود جب کبھی گاڑی بالکل سیدھی گاڑی پارک کرنے چاہتے ہیں تو نہ جانے کیوں وہ کچھ ترچھی سی ہی پارک ہوتی ہے۔