ایک بات بتائوں

اچانک بجلی غائب ہو گئی اور میرے منہ سے نکلا “الحمد للہ”۔ پاس بیٹھے دوستوں نے مجھے حیرت سے دیکھا۔
کیا غلطی ہوگئی جو مجھے آپ کڑوی نگاہوں سے دیکھ رہے ہیں۔ میں نے معصومیت سے پوچھا۔ “جب بجلی جاتی ہے تو انا اللہ وانا الیہ راجعون پڑھتے ہیں۔ آپ نے الحمد اللہ پڑھا ہے۔” ریحان صاحب نے مجھے سمجھانے والے انداز میں کہا۔
اوہ اچھا آپ اس لیے مجھے گھور رہے تھے۔ تو جناب عالی ویسے آپ کی بات ٹھیک ہے۔ سنت یہی ہے۔ لیکن میں نے الحمد اللہ کسی اور وجہ سے کہا ہے۔
وہ وجہ یہ ہے کہ بجلی نبی کریم صلّی اللہ علیہ وآلہِ وسلم کے زمانے میں نہیں تھی، اس لیے ایک درجے میں نبی کریم صلّی اللہ علیہ وآلہِ وسلم کے زمانے سے مشابہت ہو گئی۔ دوسری بات یہ کہ پنکھوں اور ائیر کولروں کا جو ایک شور برپا تھا وہ ختم ہو گیا۔
کہیں اگر گانا بجانا ہو رہا تھا، وہ ایک دم تھم گیا، کہیں اگر مسجد کے سپیکر پر بدعت ہو رہی تھی، وہ بھی رک گئی۔ پنکھوں کی وجہ سے پسینہ رکا ہوا تھا، وہ بھی جاری ہو گیا۔ جسم کے مسام کھل گئے۔ گرمی سے جراثیم مر گئے۔ اے سی کی وجہ سے جوڑوں میں جو درد شروع ہو گیا تھا وہ بھی اب ٹھیک ہو جائے گا۔ بہت ٹھنڈا پانی پی کر ہم جو اپنا معدہ اور گلا خراب کرتے ہیں، اس کے مواقع بھی کم ہو جائیں گے اور کتنے فضائل سنائوں آپ کو لوڈ شیڈنگ کے۔ میں نے تو ان فضائل کی وجہ سے الحمد اللہ کہا ہے۔
جانے دیں بھائی صاحب جانے دیں۔ ہمارا تو کام ہی ائیر لائن کی ٹکٹیں بنانے کا ہے۔ بجلی نہیں ہو گی تو ہمارا تو کام ہی ٹھپ ہو کر رہ جائے گا۔ افتخار صاحب نے ہاتھ جوڑتے ہوئے کہا۔
ہاہاہاہا، آپ کیوں فکر کرتے ہیں۔ ہوائی جہاز نہ سہی ٹانگے، گھوڑے، بگھی اور اونٹ تو دستیاب ہیں۔ آپ ان سواریوں پر لوگوں کو حج اور عمرے پر بھیج دینا۔ ثواب بھی زیادہ ملے گا۔ وقت بھی زیادہ لگے گا۔ راستے میں لوگ سیکھتے سکھاتے جائیں گے۔ ذکر اذکار سے اپنے دلوں کو گرمائیں گے اور جب حرم قریب آئے تو تڑپ تڑپ جائیں گے۔ ان کے حج و عمرے کی کیفیات ہی کچھ اور ہوں گی۔ اب تو لوگ ہوائی جہاز کے ذریعے چند گھنٹوں میں سعودیہ پہنچ جاتے ہیں۔ نہ وہ جذبہ نہ کیفیات۔ میں کہتا چلا گیا، مجھے تو کچھ کہنے کا موقع چاہیے تھا۔
حضرت آپ کو تو چودہ سو سال پہلے پیدا ہونا چاہیے تھا۔ امجد صاحب نے پہلی مرتبہ منہ کھولا۔
جنابِ عالی مجھے تو اس زمانے میں پیدا ہونا تھا سو ہوگیا، البتہ واپڈا والے ہمیں چودہ سو سال پیچھے بھیجنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
ویسے میں آپ کو ایک بات بتائوں۔ یہ ہوائی جہازوں کی وجہ سے بھی فضائی آلودگی پیدا ہو رہی ہے۔ ہارک یونیورسٹی کے سٹاک ہوم انسٹیٹیوٹ کی ایک تحقیق کے مطابق دنیا بھر میں فضائی کمپنیاں تیس کروڑ ٹن گرین ہائوس گیسوں کی ذمے دار ہیں اور اس مقدار میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔ جس کے باعث فضا تیزی سے گیسوں سے آلودہ ہو رہی ہے جس کے اثرات نہ صرف انسانوں پر ہو رہے ہیں بلکہ نباتات اور حیوانات بھی اس کی زد میں آ رہے ہیں۔
رپورٹ میں ماہرین نے مختصر فاصلے کی پروازوں میں اضافے پر سخت تنقید کی ہے۔ انسٹیٹیوٹ کے مطابق یورپ میں پنتالیس فی صد پروازیں 350 کلو میٹر سے کم فاصلے کی ہوتی ہیں۔ انہوں نے تجویز کیا ہے کہ یورپ مسافروں کو مختصر سفر کے لیے ریل گاڑی پر سفر کرنے کی طرف مائل کرے۔
ہیں ناں ۔۔۔ کتنے بے وقوف ۔۔۔ ریل گاڑی بھی تو فضائی آلودگی کا باعث بن رہی ہے۔۔۔ یہ کیوں نہیں کہتے کہ مسافر کو پیدل سائیکلوں پر یا پھر ٹانگوں پر سفر کرنے کی ترغیب دی جائے۔۔
تنگ آجائے گی اپنے چلن سے دنیا — تجھ سے سیکھے گا زمانہ تیرے انداز کبھی
ہم تو پہلے بھی کہتے تھے اور اب بھی کہتے ہیں کہ بہترین زمانہ آپ صلّی اللہ علیہ وآلہِ وسلم کا تھا۔
(آصف مجید – لاہور)