سات کے ہندسے کے اوپر لائن یا لکیر لگانے کی وضاحت

السلام و علیکم عزیز ہم وطنو اور خصوصاً مسلمان بہنوں اور بھائیوں کو میں متوجہ کرنا چاہوں گا۔ کچھ دنوں سے میں ایک بات بہت شدت سے محسوس کر رہا تھا اور دل ہی دل میں جل رہا تھا کہ مسلمان اس قدر اندھیرے میں کیوں ہیں؟ میرا اتفاق کچھ دنوں میں کچھ ہسپتالوں اور کچھ عوامی مقامات پر جانے کا ہوا اور ہر جگہ پر مجھے اپنے موبائل کا نمبر لکھوانا پڑا۔ میرے موبائل کے نمبر میں ایک ساتھ تین 7 کے ہندسے آتے ہیں۔ سب نے جب 7 کا ہندسہ ڈالا تو اس پر ایک لائن یا لکیر بھی ڈال دی جیسا کہ اکثر دیکھنے میں آتا ہے کہ لوگ ڈال دیتے ہیں۔ میں نے تقریباً سب سے ہی سوال کیا کہ یہ 7 کے ہندسے پر آپ یہ لائن کیوں ڈال رہے ہیں۔ کسی نے جواب دیا کہ ویسے ہی سب ہی ڈالتے ہیں اس لیے میں بھی ڈال رہا ہوں، کسی نے کہا کہ خوبصورتی کے لیے اور ایک صاحب نے تو حد ہی کر دی، کہنے لگے کہ یہ 7 کے ہندسے کا حصہ ہے۔

جب کہ دراصل حقیقت کچھ اور ہی ہے۔ 7 کے ہندسے کو عیسائی لوگ منحوس سمجھتے ہیں اور وہ اس کی نحوست ختم کرنے کے لیے اس پر صلیب کا نشان لگاتے ہیں۔ جبکہ 7 کا ہندسہ ہمارے لیے معتبر اس طرح ہے کہ قرآن پاک کی 7 منزلیں ہیں، حج کے دوران خانہ کعبہ کے گرد 7 مرتبہ چکر لگایا جاتا ہے وغیرہ وغیرہ۔ غرض یہ کہ طاق اعداد جیسا کہ 1، 3، 5 یا 7 وغیرہ کسی بھی طرح منحوس نہیں ہوتے۔ اس لیے میری تمام مسلمانوں سے گزارش ہے کہ اگر وہ ایسا کرتے ہیں تو مت کریں اور سمجھ لیں کہ وہ نادانستگی میں صلیب کا نشان بناتے جارہے ہیں اور گناہ کے مرتکب ہورہے ہیں۔

ذرا مزید غور کیجیے کہ عیسائی یا یہودی ہمارے معاشرے میں کس قدر شامل ہو چکے ہیں کہ وہ ہم سے اپنے کام کروا رہے ہیں اور ہم لوگوں کو اس کی خبر بھی نہیں کہ ہم کیا کررہے ہیں۔ کیا اس سے یہ پتہ نہیں لگتا کہ آج کا مسلمان کس قدر اپنے فرائض سے غافل ہو چکا ہے۔ مسلمان ہونے کے ناطے ہمارا اولین فرض ہے کہ ہم خود بھی اس امر سے باز رہیں اور دوسروں کو بھی اس کی تلقین کریں۔

اللہ ہم سب کا حامی و ناصر ہو۔ آمین