نادانی کی سزا

علی اپنے ماں، باپ کا اکلوتا بیٹا تھا، وہ نہایت اچھا اور فرمانبردار بچہ تھا اور ہمیشہ کلاس میں اول آتا تھا مگر اس میں ایک بہت بڑی خامی تھی کہ وہ اپنے والدین سے پوچھے بغیر ادھر اُدھر گھومنے چلا جاتا تھا۔ اس کے ماں ، باپ نے اسے بہت سمجھایا مگر وہ ایک کان سے سنتا اور دوسرے سے نکال دیتا۔ ایک دن وہ اسکول سے چھٹی کے بعد چند دوستوں کے ساتھ کہیں گھومنے چلا گیا۔ ابھی وہ کچھ ہی دور گئے تھے کہ انہیں سامنے سے ایک گاڑی آتی ہوئی نظر آئی۔ جو نہی گاڑی قریب آکر رکی، اس میں سے چند لوگ نکلے اور انہوں نے ان بچوں کو اغوا کرنے کی کوشش کی، باقی بچے بھاگنے میں کامیاب ہو گئے مگر علی اس کو شش میں ناکام رہا اور وہ اسے اغوا کر کے سنسان جگہ پر لے گئے ۔

اب علی کو رہ رہ کر اپنے والدین اور ان کی نصیحت یاد آنے لگی۔ علی نے اللہ سے اپنی غلطی کی معافی مانگی اور آئندہ ایسا نہ کرنے کا تہیہ کیا۔ کچھ ہی گھنٹے گزرے تھے کہ باہر سے گولیوں کی آوازیں آنے لگیں اور پولیس کے جوان اندر آگئے، انہوں نے اندر آتے ہی تمام اغوا کاروں کو گر فتار کر لیا اور علی کو اس کے والدین تک پہنچا دیا۔جونہی علی اپنے والدین سے ملا ، اس نے اپنی غلطی کی معافی مانگی اور اس کے والدین نے اسے معاف کر دیا۔ علی اب ایک اچھا بچہ بن چکا تھا اور آئندہ ایسی غلطی نہ کرنے کا ارادہ بھی کر چکا تھا۔