وہ میرا نام جانتاہے

رات کی کالی سیاہ چادر لمحہ لمحہ پھیلتی جارہی تھی۔ ہاتھ کو ہاتھ سجھائی نہیں دے رہا تھا۔ مدائن شہر بھی تاریکی میں ڈوب چکا تھا۔ جو کل تک کسرٰی کی سلطنت کا ایک حصہ تھا۔ وہ سلطنت دنیا کی سُپر پاور تھی۔ مال اور شوکت میں سب سے آگے اور اب مدائن کئی روز کی جنگ کے بعد اسلامی خلافت کا حصہ بن چکا تھا۔ سچ تو یہ ہے کہ کسرٰی کے سپاہیوں نے بہت زور آزمائی کی۔ سلطنت کو بچانے میں کوئی کسر اٹھا نہیں رکھی لیکن مسلمان مجاہدین کی ایمانی طاقت کے کیا کہنے!

ان کے سامنے کسرٰی کی طاقت تنکے کی طرح بہہ گئی۔ جس کے نتیجے میں مالِ غنیمت کنکروں کی طرح بکھرا پڑا تھا۔ مدائن شہر کے باہر دور دور تک خیمے نصب تھے۔ جن میں مسلمان مجاہدین ٹھہرے ہوئے تھے۔اچانک ان خیموں کے درمیان چلتا ہوا۔ ایک انسانی سایہ ابھرا، اس نے اپنی آستین میں کوئی بہت وزنی چیز اٹھا رکھی تھی۔ یہ سایہ لمبے لمبے ڈگ بھرتا ایک خیمے کے قریب آکر رک گیا۔ اس نے اندھیرے میں ماحول کا جائزہ لیا، جب اسے یقین ہو گیا کہ اس کا مطلوبہ خیمہ یہی ہے، تو اس نے خیمے کے دروازے پر رک کر سلام کیا۔۔۔ جواب میں وعلیکم السلام کی آواز آئی۔ یہ اس کی جانی پہچانی آواز تھی۔ اس کے سپہ سالار سعد بن وقاص رضی اللہ عنہ کی آواز۔ جو پیارے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے جانثار ساتھی تھے اور عمر فاروق رضی اللہ تعالی عنہ المسلمین کی طرف سے مقرر کردہ امیرِ لشکر تھے۔۔۔۔ انہی کی مومنانہ قیادت میں کسرٰی کی سلطنت اسلام کے دامن میں آئی تھی۔

سلام کا جواب پا کر انسانی سایہ خیمے کے اندر داخل ہوا۔ آستین میں چھپائی ہوئی چیز کو نکالا اور امیرِ لشکر کے سامنے رکھ دیا۔ یہ جواہرات سے مرصع کسرٰی کا قیمتی تاج تھا۔ جو اس قدر وزنی تھا کہ کسرٰی کے تخت کے عین اوپر، چھت سے زنجیر کے ساتھ اسے لٹکا دیا گیا تھا۔ بادشاہ اس سر پر پہننے کے بجائے اپنا سر اس کے اندر دے لیتا اور دربار سے اٹھتے وقت اسے وہیں لٹکتا چھوڑ آتا۔

سبحان اللہ! اب یہی قمیتی تاج سعد بن وقاص رضی اللہ عنہ کے سامنے، آپ رضی اللہ عنہ کے قدموں میں، زمین پر پڑا تھا۔

سعد بن وقاص رضی اللہ عنہ نے تاج کو ٹٹولا اور سوچا کہ اتنا قیمتی تاج دیکھ کر اس غریب سپاہی کی نیت میں فرق نہیں آیا۔

نیت میں فرق بھلا کیسے آتا، یہ سپاہی کسی انسانی فوج کا سپاہی نہیں، اللہ کے دین کا سپاہی تھا۔جس کا صرف ایک ہی مقصد تھا۔۔۔ اللہ کے دین کو ہر خطے میں پہنچانے، اسے اپنے آپ پر اور دوسروں پر نافذ کرنے کی پُر خلوص اور فدائیانہ کوشش۔

اس کے پیارے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے یہی تعلیم دی تھی۔ کسی دوسرے کا مال ہو یا مالِ غنیمت۔۔۔ اس میں سے ایک تنکے کی خیانت بھی حرام ہے اور اس کے عملِ جہاد کو برباد کرنے کے لیے کافی ہے۔

سپاہی نے تاج امیر کے حوالے کیا اور واپس چلنے کے لیے مڑا، سعد بن وقاص رضی اللہ عنہ نے فرمایا:

‘بھائی اپنا نام تو بتاتے جائو’

سپاہی نے دروازے کی طرف پیٹھ پھیری اور کہا!

”جس کی رضا کے لیے میں نے یہ کام کیا ہے، وہ میرا نام جانتا ہے”۔

یہ کہہ کر وہ تیزی سے باہر نکل گیا۔