دیکھورُسوانہ کرنا

ہم دو ہی بہنیں تھیں۔ مجھ کو اپنی بہن گل بہشت سے بہت پیار تھا۔ وہ مجھ سے دس برس بڑی تھیں۔سچ کہوں میرے لئے بہن سے زیادہ ماں جیسا درجہ رکھتی تھیں۔ جن دنوں میں تین برس کی تھی والد صاحب کا انتقال ہو گیا۔ اماں بھر پور جوان بھی تھیں۔ بیوگی نے ان کو سہما کر رکھ دیا۔ ہمارے ایک تایا لندن میں مقیم تھے۔ وہاں پڑھنے گئے تھے پھر ایک گوری سے شادی کر لی۔ یہ شادی جلد ٹوٹ گئی اور ازدواجی سکون ان کو راس نہ آیا، پھر انہوں نے شادی نہ کی لیکن برطانیہ کی شہریت حاصل کر لی۔

Continue reading “دیکھورُسوانہ کرنا”