کام کی باتیں

چودہ سو سال پہلے
دانشور تو کہتے ہیں کہ ہمیں چودہ سو سال پیچھے دھکیلا جا رہا ہے۔ لیکن ہم تو اسے اپنی خوش بختی خیال کرتے ہیں کہ اگر کوئی ہمیں چودہ سو سال پہلے کا معاشرہ کہیں سے لا دے۔
ہم باز آئے میڈیا کی ترقی سے، ہماری توبہ اس جدید نظام سے، ہم ان ساری ایجادات سے مرحوم بھلے، ہم ان سے دستبردار ہوتے ہیں۔ تہذیبِ حاضر ہم سے اپنی بجلی چھین لے، گرامو فون واپس لے لے، ہوائی جہاز ضبط کرلے، ایٹمی صلاحیت اپنے پاس رکھ لے، مواصلات کا نظام معطل کر دے۔ ہمیں یہ سب منظور ہے۔ مگر ہمیں کسی طرح ہمارا کھویا ہوا سکون واپس مل جائے۔ بھائی چارہ دستیاب ہو جائے، اپنے پرائے کی پہچان نصیب ہو جائے، خوفِ خدا اور آخرت کا ڈر عطا ہو جائے، قناعت کی دولت اور سادگی کی لذت کہیں سے ہاتھ آجائے اور اس کے لیے ظاہر ہے ہمیں چودہ سو سال پیچھے جانا پڑے گا۔

Continue reading “کام کی باتیں”

درزی اور سپاہی

ایک درزی اپنی چالاکی اور ہوشیاری میں مشہور تھا۔ کچھ لوگ ایک جگہ پر بیٹھے اس درزی کی چالاکی کے قصے ایک دوسرے کو بڑھا چڑھا کر سنا رہے تھے اور کہہ رہے تھے کہ وہ درزی تو بڑے کمال کا آدمی ہے۔ ہم نے اس قدر عیار اور چالاک درزی نہیں دیکھا ، کوئی کتنا ہی ہوشیار کیوں نہ ہو اور درزی کے سامنے بیٹھ کر اپنا کپڑا کٹوائے پھر بھی اپنی چالاکی سے کام لے کر تھوڑا بہت کپڑا چوری کر ہی لیتا ہے اور کسی کو پتہ ہی نہیں چلتا۔

Continue reading “درزی اور سپاہی”

احساس

شاہینہ دس سال کی ایک ذہین لڑکی تھی۔ سونے پہ سہاگہ وہ خوبصورت بھی تھی۔ اس کا ایک بھائی تھا جس کا نام ذیشان تھا اور وہ سات سال کا تھا۔ وہ امیر والدین کی اولاد تھے۔ دونوں بہن بھائی نہایت لائق تھے۔ ہر سال فرسٹ آنے والے بچوں میں ان کا شمار ہوتا تھا۔

Continue reading “احساس”

آج کے لطیفے

گواہی

ایک دن ملا نصیر الدین کا پڑوسی ان کے پاس آیا اور کہا کہ ذرا اپنا گدھا تھوڑی دیر کے لیے دے دیں۔ ملا نے جواب دیا: ‘ مجھے بڑا افسوس ہے کہ میں آپ کے کام نہ آسکوں گاکیوں کہ صبح ہی ایک صاحب گدھا مانگ کر لے گئے ہیں اور ابھی تک واپس نہیں لائے’۔

Continue reading “آج کے لطیفے”

کیا خواتین اچھی ڈرائیور نہیں ہوتیں؟

خواتین کو زندگی کے ہر مرحلے پر یہی شکوہ رہتا ہے کہ مردوں کے اس معاشرے میں ان کے ساتھ امتیازی سلوک برتا جاتا ہے۔ وہ کسی بھی میدان میں خواہ کتنی بھی اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کیوں نہ کرلیں، ان کی حوصلہ افزائی میں ہمیشہ بخل سے کام لیا جاتا ہے۔ یہ نظریہ سو فیصد سچائی پر مبنی نہ سہی لیکن اس میں بہر حال کچھ نہ کچھ صداقت ضرور ہے۔ کچھ خواتین کو واقعی اس سلسلے میں تلخ تجربات کا سامنا رہتا ہے اور مردوں کی جانب سے انہیں اکثر و بیشتر حوصلہ شکن تبصرے سننے کو ملتے ہیں۔ لیکن ایک معاملہ کم از کم ایسا ضرور ہے کہ جس کے لیے مردوں کی عورتوں پر تنقید کو درست قرار دیا جائے تو بے جا نہ ہوگا۔۔۔۔ اور وہ ہے خواتین کی ڈرائیونگ۔

Continue reading “کیا خواتین اچھی ڈرائیور نہیں ہوتیں؟”

وہ میرا نام جانتاہے

رات کی کالی سیاہ چادر لمحہ لمحہ پھیلتی جارہی تھی۔ ہاتھ کو ہاتھ سجھائی نہیں دے رہا تھا۔ مدائن شہر بھی تاریکی میں ڈوب چکا تھا۔ جو کل تک کسرٰی کی سلطنت کا ایک حصہ تھا۔ وہ سلطنت دنیا کی سُپر پاور تھی۔ مال اور شوکت میں سب سے آگے اور اب مدائن کئی روز کی جنگ کے بعد اسلامی خلافت کا حصہ بن چکا تھا۔ سچ تو یہ ہے کہ کسرٰی کے سپاہیوں نے بہت زور آزمائی کی۔ سلطنت کو بچانے میں کوئی کسر اٹھا نہیں رکھی لیکن مسلمان مجاہدین کی ایمانی طاقت کے کیا کہنے!

Continue reading “وہ میرا نام جانتاہے”