India (Hindustan) is rapistan

It is true that India is no more secure for their own women, girls and not even for animals. I just saw an article where I read that even animals (dogs) are not save in India and they are trying to pretend India as full of peace country. Everyone knows that what India doing in Kashmir. The biggest human rights violation done in Indian occupied (India Captured) Kashmir.

Continue reading “India (Hindustan) is rapistan”

دیکھورُسوانہ کرنا

ہم دو ہی بہنیں تھیں۔ مجھ کو اپنی بہن گل بہشت سے بہت پیار تھا۔ وہ مجھ سے دس برس بڑی تھیں۔سچ کہوں میرے لئے بہن سے زیادہ ماں جیسا درجہ رکھتی تھیں۔ جن دنوں میں تین برس کی تھی والد صاحب کا انتقال ہو گیا۔ اماں بھر پور جوان بھی تھیں۔ بیوگی نے ان کو سہما کر رکھ دیا۔ ہمارے ایک تایا لندن میں مقیم تھے۔ وہاں پڑھنے گئے تھے پھر ایک گوری سے شادی کر لی۔ یہ شادی جلد ٹوٹ گئی اور ازدواجی سکون ان کو راس نہ آیا، پھر انہوں نے شادی نہ کی لیکن برطانیہ کی شہریت حاصل کر لی۔

Continue reading “دیکھورُسوانہ کرنا”

دو گز زمین کی کہانی

۱۸۵۷ء کی جنگ آزادی ختم ہو چکی تھی۔ انگریز بہادر اپنے کچھ ہندوستانی وفاداروں کی مدد سے بغاوت کچلنے میں کامیاب ہو چکا تھا۔ انگریز حکومت کے باغیوں کو سزائیں مل رہی تھیں۔ جگہ جگہ سر عام پھانسیاں دی جارہی تھیں۔ جو بچ گئے تھے وہ چھپتے پھر رہے تھے۔ ان لوگوں کی زمینیں اور جائدادیں ضبط کر لی گئی تھیں۔ انگریز بہادر کے وفادار ہندوستانی انعام سے نوازے جارہے تھے۔

Continue reading “دو گز زمین کی کہانی”

پھلوں کی فریاد

کیلا: مجھے بچے بوڑھے، جن کے دانت نہیں ہوتے وہ بھِی کھا جاتے ہیں جبکہ دوسرے پھل اپنی کچھ سختی کے باعث ان بے دانتوں سے بچ جاتے ہیں۔ مجھے تو ہر چھوٹا، بڑا، بوڑھا اور دودھ کے دانتوں والا بھی ہپ ہپ کر کے کھا جاتا ہے۔ لیکن مجھے ایک بڑی خوشی حاصل ہے کہ میں تیز دھار والی چھری سے بچ جاتا ہوں۔

Continue reading “پھلوں کی فریاد”

عدل و انصاف

حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالی عنہ کے عدل کی یہ حالت تھی کہ جب آپ رضی اللہ تعالی عنہ کا انتقال ہوا تو آپ رضی اللہ تعالی کی سلطنت کے دور دراز علاقے کا ایک چرواہا بھاگتا ہوا آیا اور چیخ کر بولا۔ لوگو! حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ کا انتقال ہو گیا ہے۔

Continue reading “عدل و انصاف”

ماں کی دعا نہ لی

میں شروع ہی سے نٹ کھٹ اور شریر تھی۔ ایسی تو بچپن میں بہت سی لڑکیاں ہوتی ہیں لیکن میں ضدی بھی بلا کی تھی۔جب کوئی سوچ ذہن میں آجاتی تو پھر اس سے چھٹکارا پانا میرے بس میں نہ رہتا، ہر صورت اپنی خواہش کو پورا کرتی ، خواہ اس کے لیے کسی کو کتنا ہی پریشان کیوں نہ ہونا پڑتا۔

Continue reading “ماں کی دعا نہ لی”