دو گز زمین کی کہانی

۱۸۵۷ء کی جنگ آزادی ختم ہو چکی تھی۔ انگریز بہادر اپنے کچھ ہندوستانی وفاداروں کی مدد سے بغاوت کچلنے میں کامیاب ہو چکا تھا۔ انگریز حکومت کے باغیوں کو سزائیں مل رہی تھیں۔ جگہ جگہ سر عام پھانسیاں دی جارہی تھیں۔ جو بچ گئے تھے وہ چھپتے پھر رہے تھے۔ ان لوگوں کی زمینیں اور جائدادیں ضبط کر لی گئی تھیں۔ انگریز بہادر کے وفادار ہندوستانی انعام سے نوازے جارہے تھے۔

خدا بخش بھی انہی خوش نصیبوں میں سے تھا۔ اس نے کچھ انگریزوں کی جان بچائی تھی اور آج انگریز کلکٹر، بہادر، بہ نفس نفیس موجود تھا اور خدا بخش سے پوچھ رہا تھا، ویل مسٹر بکش کتنی زمین چاہیے؟۔

خدا بخش عجز و انکسار سے بولا: ‘صاحب بہادر جو آپ مناسب سمجھیں’۔ صاحب بہادر نے کہا ‘ویل تم اپنا گھوڑا دوڑائو، شام تک جتنا زمین میں Gover کر لو گے، تمہارا’۔

خدا بخش کی خوشی سے باچھیں کھل گئیں۔ یہ خبر سارے گائوں میں جنگل کی آگ کی طرح پھیل گئی۔  کچھ لوگ تو کلکٹر بہادر کی آمد کی بنا پر ہی وہاں اکھٹے ہو گئے تھے۔ یہ خبر سن کر مزید لوگ جوق در جوق جمع ہونے لگے۔ ڈھول والے نے ڈھول پیٹنا شروع کر دیا اور اس طرح ایک میلے کا سماں بن گیا۔ ایک صحت مند گھوڑا منگوایا گیا۔ خدا بخش اس پر سوار ہوا اور اسے سر پٹ دوڑانے لگا۔ کچھ منچلے نوجوان ڈھول کی تاپ پر ناچنے لگے۔ کچھ اپنے اپنے گھوڑوں پر سوار ہو کر خدا بخش کے پیچھے ہو لیے۔

خدا بخش کا گھوڑا ہوا سے باتیں کررہا تھا۔ وہ سوچ رہا تھا کہ اگر دریا تک کی زمین وہ گھیر لے تو علاقے کا سب سے بڑا زمیندار بن جائے گا۔ لیکن دریا بہت دور تھا۔ اس کا گھوڑا قدرے سست ہو رہا تھا اور خود بھی جھلسا دینے والی گرمی سے پسینے میں شرابور ہو رہا تھا۔ خدا بخش بوڑھا آدمی تھا۔ جلد ہی تھکاوٹ اس پر حاوی ہونے لگی۔ ڈھول کی آواز اسے انتہائی مدھم سنائی دے رہی تھی۔

زیادہ سے زیادہ زمین حاصل کرنے کی لالچ اس کی ہمت بندھا رہی تھی۔ وہ گھوڑے کو تیز سے تیز تر بھگانے کے لیے کوشاں تھا۔ لیکن بوڑھے خدا بخش کی ہمت جواب دے رہی تھی۔ گھوڑے کی رفتار بھی کم ہو رہی تھی۔ وہ نوجوان جو خدا بخش کے پیچھے تھے، اب خدا بخش کے قریب پہنچ کر اس کی ہمت بندھا رہے تھے۔ خدا بخش کے لالچ نے اس کو انگیخت کی اور وہ گھوڑے کے ذریعہ زیادہ سے زیادہ زمین کی دیوانگی کی حد چھونے لگا۔ اس کے کپڑے پسنے سے تر بتر تھے۔ اس نے اپنی آنکھوں سے پسینہ پونچھا۔ اب دریا کے کنارے کھڑے درخت نظر آنے لگے تھے، انہیں دیکھ کر اس کی آنکھوں میں چمک آگئی۔ ڈھول کی تاپ بھی فضا میں گم ہو چکی تھی البتہ اس کے ساتھی اسے اپنے پیچھے گھوڑے دوڑاتے ہوئے نظر آرہے تھے۔ اسے یقین نہیں آرہا تھا کہ اس کا خواب سچ ہونے والا ہے۔ یکلخت اس کی ہمت پھر جواب دینے لگی۔ گھوڑا بھی بے دم ہو رہا تھا۔ اس کی رفتار سست پڑ چلی تھی۔ اس کے ساتھی اس کی ہمت بندھا رہے تھے۔ خدا بخش نڈھال تھا لیکن وہ دریا کے کنارے پہنچ چکا تھا۔

خدا بخش گھوڑے سے اتر کر زمین پر لیٹ گیا اور دریا کا پانی پینے لگا۔ پانی پی کر اس کو کچھ ہوش آیا اور اس کی لالچ بھری سوچ پھر سے جاگ اٹھی۔ اس کا گھوڑا بھی پانی میں منہ مار رہا تھا۔ خدا بخش اچھل کر گھوڑے پر سوار ہوا اور گھوڑے کا رخ اس نے دوسری طرف موڑ دیا اور گھوڑے کو تیز سے تیز تر دوڑانے کی فکر کرنے لگا۔ شام سے پہلے خدا بخش دو سو مربع زمین گھیرنے میں کامیاب ہو چکا تھا۔ خدا بخش اور اس کا گھوڑا دونوں ادھ موئے ہوئے جا رہے تھے۔ گھوڑا آہستہ آہستہ واپس آرہا تھا۔ ڈھول بجانے والے قریب تھے لیکن ڈھول کی آواز کہیں دور سے آتی ہوئی محسوس ہو رہی تھی۔ لوگ خوشی سے ناچ رہے تھے۔ ڈھول کی بے ہنگم تھاپ تیز ہوتی جارہی تھی۔

خدا بخش نے اپنا گھوڑا احتراما کلکٹر بہادر کی چھولداری سے تھوڑے فاصلے پر روک لیا۔ سب لوگ تالیاں بچانے لگے۔ شور سن کر کلکٹر بہادر بھی شراب کا گلاس ہاتھ میں لیے چھولداری سے باہر نکلا۔ خدا بخش گھوڑے سے اتر کر لڑکھڑاتے قدموں کے ساتھ کلکٹر بہادر کی جانب چلنے لگا۔ خدا بخش نے بمشکل اپنے آپ کو سنبھال رکھا تھا۔ کلکٹر تک پہنچنے سے پہلے ہی اس کی آنکھوں کے آگے اندھیرا چھا رہا تھا۔ وہ لیٹ کر لمبے لمبے سانس لینے لگا۔ کلکٹر اور دوسرے لوگ اس کی طرف لپکے۔ خدا بخش نے تشکر کے طور پر اپنا سر کلکٹر کے پائوں میں رکھ دیا اور ابدی نیند سو گیا۔

خدا بخش کو وہ ساری زمین حسب وعدہ بخش دی گئی۔ اب اس زمین کے ایک کونے میں خدا بخش کی پختہ قبر اس واقعہ کی یاد دلاتی ہے۔


About shakeel

I live in Lahore, Pakistan