ماں کی دعا نہ لی

میں شروع ہی سے نٹ کھٹ اور شریر تھی۔ ایسی تو بچپن میں بہت سی لڑکیاں ہوتی ہیں لیکن میں ضدی بھی بلا کی تھی۔جب کوئی سوچ ذہن میں آجاتی تو پھر اس سے چھٹکارا پانا میرے بس میں نہ رہتا، ہر صورت اپنی خواہش کو پورا کرتی ، خواہ اس کے لیے کسی کو کتنا ہی پریشان کیوں نہ ہونا پڑتا۔

میری بے جا ضدوں سے امی جان پریشان رہتی تھیں اور میں ان کی اکلوتی بیٹی تھی۔ یوں تو امی جان نے پانچ بچوں کو جنم دیا تھا لیکن وہ سب ہی تھوڑا عر صہ جی کر وفات پا گئے۔ میں لمبی زندگی لے کر آئی تھی۔ یہ میرے والدین کی دعائیں تھیں کہ میں زندہ سلامت رہی۔

والد صاحب بینک میں ملازمت کرتے تھے۔ گھر اپنا تھا۔ بہت اچھا گزارہ ہو رہا تھا۔ امی جان اپنی زندگی سے بہت خوش اور مطمئن تھیں۔ ان کو سوائے پیار کرنے اور میرے لاڈ اٹھانے کے اور کوئی کام نہ تھا۔

والد بھی کم پیار نہ کرتے تھے۔ آدھی رات کو بھی کوئی فرمائش کرتی تو پوری کرنے گھر سے نکل کھڑے ہوتے تھے۔ وہ کتنے شفیق تھے، کیا بتائوں؟ سچ کہوں تو مجھ کو زندگی میں جر ات اور حوصلہ انہوں نے ہی عطا کیا تھا۔

بچپن پلک جھپکتے بیت گیا اور پھر میں نے جوانی کی دہلیز پر قدم رکھ دیا۔ ماں میری دیوانی تھی اور زیادہ چاہنے لگیں۔ ملازمہ کے ہوتے امی جان میرے سارے کام اپنے ہاتھ سے کرتیں۔

ملازمائیں دل سے کام نہیں کرتیں ۔ وہ میرے لیے کھانا خود بناتی تھیں اور میرے کپڑے اپنے ہاتھوں سے دھویا کرتی تھیں۔ پھر خوش ہو کر دکھاتیں دیکھو نائلہ جیسے صاف کپڑے میں دھوتی ہوں، ویسے ملازمہ نہیں دھوسکتی۔

ان دنوں یہ باتیں سمجھ میں نہیں آتی تھیں۔ میں بس خود میں مگن رہتی تھی۔ پہننے اوڑھنے کا بہت شوق تھا۔ حتٰی کہ ابو اگر میرے چار جوڑے لاتے اور امی جان کا ایک ، تو میں ان کا وہ ایک جوڑا بھی لے لیا کرتی تھی۔

میں جہاں ضدی تھی، وہاں قدرے گستاخ اور منہ پھٹ بھی تھی۔ امی لاکھ سمجھاتیں ، منع کرتیں کہ ایسے بے باکی سے بات نہیں کرتے، تم لڑکی ذات ہو، زبان سنبھال کر بات کیا کرو۔ آگے تم نے پرائے گھر جانا ہے۔ کچھ تو سوچ سمجھ سے کام لو۔ لیکن مجھ پر امی جان کی باتوں کا کوئی اثر نہ ہوتا۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ میرے مزاج میں سر موتبدیلی نہ آسکی۔ جیسی تھی اس سے بڑھ کر بے باک ہوتی گئی ۔ مجھ میں قائدانہ صفات تھیں، اپنی سہلیوں میں ہی سر براہ ہوتی، جیسا میں کہتی وہ ویسا ہی کرتیں۔

میں اپنی دوستوں کی ضرورت کے وقت مدد کرتی اور ان کو مشکل میں بالکل تنہا نہ چھوڑتی تھی۔ کھلے دل کی اور فیا ض تھی۔ سہلیوں پر خوب خرچ کرتی۔ مجھ کو خاصی رقم جیب خرچ کے طور پر ملتی تھی، تا ہم میری فیاضی سے وہ کم پڑ جاتی تو ماں کے پیسے چرالیا کرتی تھی اور ان کو اپنی سہیلیوں پر خرچ کرنے میں عار نہیں سمجھتی تھی۔ عموماً اسکول پھر کالج میں بھی لنچ ٹائم پر سہیلیوں کی ضیافت کا خرچہ میرے ذمہ ہوتا تھا۔ یہی سبب تھا کہ وہ میری ہر بات برداشت کرتی تھیں اور مجھ سے دوستی قائم رکھتی تھیں۔

کالج کا دور بھی گزر گیا اور بی اے کے بعد میں گھر بیٹھ گئی۔ انہی دنوں ابو بیمار پڑ گئے اور آخر کار وہ کینسر کے موذی مرض میں مبتلا ہو کر چل بسے۔ ان کی وفات کے بعد جیسے ہماری زندگی ہی بدل گئی۔ بے فکری کا دوران کے ساتھ رخصت ہو گیا۔ اب والدہ ہر دم فکر معاش کے ساتھ دوسرے مسائل میں گھلنے لگیں۔ بیوہ ہوتے ہی رشتے داروں نے امی جان سے منہ موڑ لیا بس واجبی دعا سلام باقی رہ گئی۔

امی جان کو یہ دن بھی دیکھنے تھے۔ کبھی محنت مشقت کے بارے میں سوچا نہ تھا اور اب ان کو محنت کی چکی میں پسنا پڑا۔ والد صاحب نے کچھ جمع پونجی ضرور چھوڑی تھی، امی جان نے میری شادی کی خاطر اس رقم کو ہاتھ نہ لگایا۔ وہ ایم اے پاس تھیں، گھر پر ٹیوشن سینٹر کھول لیا اور بہت جا نفشانی سے ٹیوشن سینٹر چلانے لگیں۔

روز و شب کی محنت سے خاصی آمدنی ہونے لگی لیکن میری لاابالی طبیعت کو قرار نہ تھا۔ پہلے ان سے خوب خرچ کراتی تھی لیکن اب اور زیادہ ہی فضول خرچی پر آگئی۔ ابو کا ڈر جاتا رہا تھا۔ سہیلیوں کا ایک گروپ تھا، انہیں روز مدعوکر لیتی، بوریت سے بچنے کے لیے ان کی دعوتیں کرتی اور ماں کی محنت کا پیسہ ہنسی ٹھٹھول میں اڑادیتی۔

امی جان کو دکھ ہوتا، وہ مجھ کو روز سمجھاتیں لیکن میں ایک کان سے سن کر دوسرے سے نکال دیتی۔ جانے کیسا مزاج پایا تھا کہ ماں جیسی عظیم ہستی کی طرف سے غفلت برتنے لگی تھی۔ اچھا کھانا، پہننا اور خوب خرچ کرنا اپنا حق سمجھتی تھی لیکن امی جان کا ہاتھ بٹانے کو مصیبت جانتی تھی۔

کئی بار امی نے کہا۔ بیٹی تم پڑھی لکھی ہو میرے ساتھ پڑھا دیا کرو، اس طرح میرا بوجھ کم ہو جائے گا۔ میں نے ان باتوں کو درخوراعتنا نہ جان کر ہمیشہ ہی پس پشت ڈال دیا۔

امی کو اس طرح کے بکھیڑے پریشان رکھتے تھے۔ مانتی ہوں وہ بکھیڑے ان کی محنت سے حل ہو جاتے تھے لیکن میں ایک ایسی پریشانی، ایک ایسا درد سر تھی ان کے لیے ، جو درد جگر سے بھی بڑھ کر تھا۔

ہمارے ٹیوشن سینٹر کی شہرت دور دور تک پھیل گئی کیونکہ امی جان دل سے پڑھاتی تھیں، فیس زیادہ نہ تھی، طالبات اور ان کے والدین مطمئن تھے۔ امی کی قدر و منزلت بڑھتی گئی۔ طالبات کی مائیں امی کے پاس آنے جانے لگیں۔

ایک بار کا ذکر ہے میں اپنے کمرے میں بیٹھی تھی۔ دروازے پر دستک ہوئی، امی نے پوچھا کون ہے جواب ملا۔ میں مدیحہ کا والد ہوں، اس کی والدہ نہیں ہیں اسی لیے خود اس کے بارے بات کرنے آیا ہوں۔

امی نے دروازہ کھولا۔ آنے والے مہمان کو ڈرائنگ روم تک لائیں اور پھر میں نے دروازے کے پاس جو گفتگو سنی تو میں دنگ ہو کر رہ گئی۔

والدہ اور واجد کی گفتگو سے پتا چلا کہ یہ موصوف امی کے کلاس فیلو رہ چکے تھے۔ یونیورسٹی میں ساتھ پڑھتے تھے۔ وہ ان کو پسند کرتے تھے، نوبت یہاں تک پہنچی کہ پرپوز بھی کیا لیکن امی کے والدین نے اس رشتے کو رد کر دیا کیونکہ وہ اپنی بیٹی کی شادی قریبی عزیز کے بیٹے یعنی میرے والد سے کرنا چاہتے تھے۔

اس انکار کا واجد صاحب اور امی جان دونوں کو صدمہ ہوا تھا لیکن وہ والدین کی فرمانبردار اور شریف بیٹی تھیں۔ ان کی مرضی کی لاج رکھی اور جہاں انہوں نے کہا وہاں شادی کرلی۔ یوں یہ قصہ انجام پذیر ہوا۔

واجد صاحب اور امی پھر کبھی ایک دوسرے سے نہ ملے۔ ان کی بھی شادی ہو گئی، دونوں کی راہیں جدا ہو گئیں۔ اور وہ محبت کا پودا جو پنپنے نہ پایا تھا، اسے جڑسے اکھاڑ کر پھینک دیا گیا۔

خدا جانے پودا جڑ سے اکھڑا تھا کہ یا نہیں، آج اچانک جو آمنا سامنا ہوا تو امی جان ششدر رہ گئیں۔ یہ اتفاقیہ ملاقات قسمت میں لکھی گئی تھی۔

ایک دوسرے کا سامنا ہوا تو گزرا زمانہ آنکھوں میں پھر گیا۔ دونوں نے ماضی کے بارے میں چند جملے کہے ۔ پھر امی جان کو واجد صاحب نے بتایا کہ ان کی بیوی عرصہ قبل وفات پا چکی ہیں اور مدیحہ ان کی اکلوتی بچی ہے جس کی خاطر انہوں نے دوسری شادی نہیں کی تھی۔ اسی دن باتوں باتوں میں ۔۔۔۔۔۔۔۔ انہوں نے یہ جان کر کہ امی جان بیوہ ہیں، یہ آفر بھی کی کہ اگر انہیں آئندہ زندگی کے لیے سہارا درکار ہو تو وہ ان کے ساتھ نکاح ثانی کرنے کو تیار ہیں۔ اس پیشکش کو امی جان نے یہ کہہ کر رد کر دیا کہ اب میری بیٹی جوان ہے، اس کی شادی کرنے کا وقت ہے۔ لہٰذامیں ہر گز اپنی شادی کے بارے میں اس عمر میں نہیں سوچ سکتی۔ امی نے یہ بھی کہا تھا کہ واجد صاحب آج ہماری اتفاقیہ ملاقات ہو گئی ہے لیکن آئندہ کبھی آپ یہاں مت آئیے کا۔ میں نہیں چاہتی، محلے والے باتیں بنائیں ۔ اور میری بیٹی کے کانوں میں کوئی ایسی بھنک پڑے کہ اس کی ماں کا ماضی میں کسی سے کوئی تعلق تھا۔

واجد صاحب چند منٹ بیٹھ کر چلے گئے لیکن میرے دل کے اندر کی دنیا میں طوفان اٹھا گئے۔ میرے لیے یہ تصور ہی اذیت ناک تھا کہ ماضی میں میری ماں کو کوئی شخص پسند کرتا تھا اور آج بھی وہ ان سے شادی کا خواستگار تھا۔

واجد صاحب کے جانے کے بعد میں نے امی سے پوچھا کہ یہ کون آدمی تھا اور کیوں آیا تھا۔ امی نے جواب دیا۔ میری ایک اسٹوڈنٹ کے والد تھے۔ اتفاق سے آگئے کیونکہ مدیحہ کی ماں مرحومہ ہو چکی ہے تو یہ اپنی بیٹی کی تعلیمی حالت کے بارے میں بات کرنے آئے تھے۔

” امی جان ۔۔۔۔۔ میں نے ساری باتیں سن لی ہیں۔ میں دروازے کے پاس کھڑی تھی، مجھے معلوم ہوچکا ہے کہ یہ آپ کے پسندیدہ کلاس فیلو ہیں اور آپ بھی ان کو پسند کرتی تھیں۔ اگر آپ واجد صاحب کو پسند کرتی تھیں تو بتائیے کہ آپ نے ان سے شادی کیوں نہیں کی۔”

” بیٹی ایسی بات نہیں ہے۔ جیسی تم سمجھ رہی ہو۔ میرا کوئی ماضی نہیں تھا اور نہ ماضی میں کوئی رشتہ ایسا تھا جو قابل اعتراض ہو یا جس پر مجھ کو شرمندگی ہو۔ یہ عام سی بات ہے کہ یونیورسٹی میں کسی کلاس فیلو کو میں اچھی لگی اور اس نے اپنے والدین کو میرے ماں باپ کے پاس رشتے کے لیے بھیجا۔ امی ، ابو کو میری شادی غیروں میں نہیں کرنی تھی بلکہ اپنے قریبی عزیزوں میں رشتہ پسند تھا۔ پس شادی آپ کے ابو سے کر دی گئی۔ تم اس بات کو زیادہ اہمیت مت دو۔” بات اتنی ہی ہو گی لیکن میرے شیطانی دماغ نے اپنی ماں کو ستانے کی ٹھان لی، اب جو بات منوانی ہوتی، میں ان کے ماضی کا طعنہ دے کر اپنی ضد منوالیتی ، گویا ان کو بلیک میل کرنے لگی۔

میرے اس رویے پر امی پریشان تھیں۔ انہیں ایسی توقع نہ تھی کہ جس بیل کو انہوں نے اپنے خون سے سینچا تھا، یوں منہ کو آجائے گی۔ اور امربیل کی طرح ان کے وجود کو چاٹنے لگے گی۔

ان ہی دنوں ہمارے پڑوس میں نئے کرایہ دار آئے۔ ان کا لڑکا تشبیہ بہت وجیہ نوجوان تھا مگر وہ ٹھیک لڑکا نہ تھا۔ کچھ اوباش سا تھا۔ میں نے اسے دیکھا تو اس کی موہنی صورت دل میں اتر گئی۔

بہانے بہانے ان کے گھر جانے لگی۔ امی کو اندازہ ہو گیا کہ میں تشبیہ کے لیے جاتی ہوں کیونکہ میری ہم عمر کوئی وہاں نہ تھی۔ تشبیہ کی والدہ میری ہم عمر نہ تھیں کہ ان سے دوستی ہو جاتی۔ امی نے منع کیا تو میں زیادہ شوخ ہونے لگی۔ وہ اونچ نیچ سمجھانے لگیں تب میں نے وہ حربہ اپنا لیا کہ آج سوچتی ہوں تو شرم آنے لگتی ہے۔

میں نے کہا۔” امی جان اگر آپ ماضی میں واجد صاحب کے ساتھ عشق کر سکتی ہیں تو میں تشبیہ کو پسند کیوں نہیں کر سکتی۔ مجھے روکنے سے پہلے اپنے گریبان میں جھانک لیا کیجیے۔”

میری زبانی ایسی گفتگو سن کر امی جان کو پسینہ آگیا۔ وہ سوچ بھی نہ سکتی تھیں کہ میں اتنی بے حیا، بے لحاظ ہو سکتی ہوں مگر مجھے اعتراف ہے کہ میںایسی ہی تھی کیونکہ مجھے ہر صورت تشبیہ سے عشق کے تقاضے نبھانے تھے، سو میں اتنی زیادہ کمینگی پر اتر آئی کہ اپنی ماں کو آئینہ دکھانے لگی۔ میں نے ان کے بار بار روکنے پر یہاں تک ان کو دھمکایا کہ اگر آپ نے مجھ کو تشبیہ سے ملنے سے روکا تو یقین مانیے کہ میں آپ کے ماضی کی داستان محلے میں ہر گھر میں جا کر بتا دوں گی اور آپ کا یہ ٹیوشن سینٹر بند ہو جائے گا۔

والدہ اب آٹھ آٹھ آنسو روتیں لیکن میں پروانہ کرتی ، تشبیہ کے ہمراہ سیر سپاٹے کو نکل جاتی اور رات گئے لوٹتی۔ ماں کو بلیک میل کر کے میں نے من مانی کار روائیاں کیں اور خوب دل کی خوشیاں پوری کیں۔

وہ مجھ سے خوفزدہ رہنے لگیں، ان کو چپ سی لگ گئی۔ اب میں ایک ایسا طوفان تھی جس کو روکنا ان کے بس کی بات نہ تھی۔

تشبیہ ایک لالچی لڑکا تھا، وہ جب کسی ریسٹورنٹ میں مجھے کھانا کھلانے لے جاتا، کھانے کا بل اور سیر سپاٹے کا تمام خرچہ مجھ سے کراتا۔ میں اسے قیمتی تحفے دیتی اور وہ مزید فرمائش کرتا۔ یہاں تک کہ جیب خرچ کے لیے بھی ادھار کہہ کر رقم مانگ لیتا جو وہ کبھی واپس نہ کرتا۔

یہ تمام پیسے میں ماں سے لیتی، وہ نہ دے پاتیں تو ان کو بدنام کرنے کی دھمکی دیتی۔ ان کا کوئی پرسان حال نہ رہا۔ اور میں نے ان کو دونوں ہاتھوں سے لوٹنے کی قسم کھائی تھی، گویا واجد کی ایک ادھوری ملاقات کی سزا دے رہی تھی۔

آہ۔۔۔۔۔۔۔ افسوس ، آج سوچتی ہوں تو رونا آتا ہے کہ میں کتنی نادان تھی، کاش کچھ عقل سے کام لیا ہوتا۔ ماں کی دعائیں لینے کی بجائے بد دعائیں لے لیں۔ ان کا کون تھا میرے سوا۔ وہ میرے لیے ہی جی رہی تھیں اور میں تھی کہ ان کو کندچھری سے ذبح کرنے پر تلی ہوئی تھی۔

کیا واقعی اولاد اتنی خود غرض ہو سکتی ہے، وہ بھی بیٹی۔ بیٹیاں تو مائوں کی ہمدرد ہوتی ہیں لوگ ان کو رحمت کہا کرتے ہیں۔ اور میں بدبخت ماں کی دشمن بن گئی تھی، اپنی خود غرضی سے ان کو جیتے جی مر جانے پر مجبور کر دیا تھا۔

برا کرو تو برا انجام ہوتا ہے۔ میرے ساتھ بھی یہی ہونا تھا۔ امی نے لاکھ روکا کہ تشبیہ ایک لالچی انسان ہے، اس کے ساتھ واسطہ نہ رکھو۔ اس سے شادی مت کرنا۔ لیکن میری آنکھوں پر تو عشق کی پٹی بند گئی تھی، اس کی چالوں کو کیا سمجھتی ، میں نے اس کی خوشامد کو اپنی خوشی کی معراج سمجھ لیا تھا، بالآ خر اس کے ساتھ شادی کر لی اور وہ گھر داماد بن کر ہمارے یہاں رہنے لگا۔

اب ایک ماں کمانے والی اور ہم دونوں ان کو لوٹنے والے۔ امی کی کیا مجال جو کچھ کہتیں ۔ میں فوراً انہیں آنکھیں دکھاتی تھی کہ شوہر کو بتادوں گی تمہاری واجد صاحب سے عشق والی کہانی۔ پھر بھلا داماد کیا عزت کرے گا تمہاری سوچو۔۔۔۔۔۔ امی بچاری دہشت زدہ ہو کر چپ ہو جاتیں۔

وہ دن بھی آگیا جس کو احتساب کا دن کہنا چاہیے۔ امی نے آنکھیں موند لیں۔ ان کا ٹیوشن سینٹر جو کمائی کا واحد ذریعہ تھا، وہ ان یہ کے دم سے تھا، بند ہو گیا۔ تشبیہ کو ہم سے لے کر کھانے کی عادت پڑی ہوئی تھی۔ سو اللہ دے کھانے کو بلا جائے کمانے کو، والی بات ثابت ہو گئی ۔ ہاتھ پر ہاتھ دھرکر بیٹھ رہے۔ میری پاس بھی کوئی نوکری نہ تھی اور ٹیوشن سینٹر کو چلانے کی مجھ میں طاقت نہ تھی۔ نوبت یہاں تک آگئی کہ امی کی جمع پونجی کے بعد جس مکان میں ہم رہا کرتے تھے، تشبیہ نے اس کو بیچ دیا۔ اور خود اپنی والدہ کے پاس کرائے کے مکان میں چلے آئے۔

اس مکان کا کرایہ ان کے بڑے بھائی دیا کرتے تھے اور گھر کا خرچہ بھی وہی چلاتے تھے۔ کچھ دن انہوں نے ساتھ دیا، پھر ان کی بیوی نے جھگڑا شروع کر دیا۔ میں امید سے تھی، اسی حالت میں ہم کو گھر سے جانے پر مجبور کر دیا گیا۔

تشبیہ کے ساتھ میں ایک سہیلی کے گھر آگئی۔ وہ خوشحال فیملی سے تھی، ترس کھا کر اپنے والد سے سفارش کی تو انہوں نے گھر دے دیا۔ یہ مکان مدت سے خالی پڑا تھا اور وہ اسے کرائے پر کسی کو نہ دیتے تھے۔ سوچا ااس طرح اب ان کا مکان صاف ستھرا رہے گا۔ انہوں نے ہم سے کرایہ نہ لیا لیکن یہ ایک عارضی ٹھکانہ تھا۔

اب کھانے کو بھی چاہیے تھا۔ تشبیہ کہتے تھے کام ڈھونڈ تا ہوں نہیں ملتا تو میں کیا کروں؟ نا چار میں نے ایک اسکول میں بطور ٹیچر ملازمت کر لی۔ اب میں ملازمت کرتی، گھر کا کام بھی کرتی، شوہر کی خدمت بھی لازمی تھی، وہ پانی بھی اٹھ کر نہ پیتے تھے۔ غرض لاڈلی اور خوشیوں سے کھیلنے والی کا ایسا حال کیا کہ میں مدقوق بیمار ہو کر رہ گئی۔ ایسے میں کوئی میرا دکھ درد سننے اور بانٹنے والا بھی نہ تھا۔

اب ماں اور ان کی باتیں یاد آتی۔ روتی تھی اور سوچتی تھی کہ میں نے ان کو اتنا دکھ دیا، ان کی خاموش بددعا لی تھی، وہ بھی ایسے ہی روتی تھیں۔ کچھ نہ کہتی تھیں ۔ خدا نے مجھ کو آزمائش میں ڈال دیا کیونکہ میں نے اپنی نیک اور شریف ، پیار کرنے والی ماں کے صبر کا امتحان لیا تھا۔

آج میں جس حال میں ہوں، لوگ عبرت پکڑیں گے۔ میں آزمائش سے بھی آگے، بس ہوں کہنا چاہیے کہ نشان عبرت ہوں۔ تشبیہ آج بھی میری کمائی پر پل رہا ہے اور بچے بچارے حالات کا ظلم سہنے پر مجبور ہیں۔

دن رات محنت کر کے شوہر اور بچوں کو پال رہی ہوں۔ آج ماں کو یاد کرتی ہوں تو کلیجہ منہ کو آنے لگتا ہے۔

اے کاش۔۔۔۔۔۔ وقت ایک بار پلٹ آئے۔ ماں واپس آجائے تو ان کے قدموں میں سر رکھ دوں گی اور اس وقت تک نہ اٹھائوں گی جب تک وہ معاف نہیں کر دیں گی۔ دعا کرتی ہوں، ہم جیسی بیٹیاں کبھی پیدا نہ ہوں۔ کیا خبر قیامت کے روز میرا کیا حال ہو گا۔ اس دنیا میں بہت دکھی رہی ہوں شاید قیامت کے روز اس سے زیادہ حساب دینا پڑے کیونکہ ماں کو بہت ستایاہے۔ کیا خبر ماں معاف کر دے۔ کیا خبر روزمحشر میرا دامن پکڑلے یا پھر مجھ کو روبرو دیکھنا بھی گوارا نہ کرے۔

اللہ وہ وقت نہ لانا کہ ماں میرا دامن قیامت کے دن پکڑ کر مجھ سے میری نافرمانی پر فریاد کناں ہو۔ تب مجھ کو دوزخ کی آگ سے کوئی نہ بچاسکے گا۔