پھلوں کی فریاد

کیلا: مجھے بچے بوڑھے، جن کے دانت نہیں ہوتے وہ بھِی کھا جاتے ہیں جبکہ دوسرے پھل اپنی کچھ سختی کے باعث ان بے دانتوں سے بچ جاتے ہیں۔ مجھے تو ہر چھوٹا، بڑا، بوڑھا اور دودھ کے دانتوں والا بھی ہپ ہپ کر کے کھا جاتا ہے۔ لیکن مجھے ایک بڑی خوشی حاصل ہے کہ میں تیز دھار والی چھری سے بچ جاتا ہوں۔

سیب: میں بڑی کوشش کرتا ہوں کہ ان انسانوں کے عتاب سے بچ جائوں۔ میرا رنگ کتنا حسین ہوتا ہے، کہیں سرخ، کہیں سبز اور کہیں سے پیلا۔ میں گیند کی شکل کا ہوتا ہوں تاکہ بچے مجھے گیند کی مشابہت کی وجہ سے نہ کھائیں مگر میرے ساتھ کہاں رعایت برتی جاتی ہے۔ مجھے تو ہسپتال تک پہنچا دیا جاتا ہے۔ مجھے لاغر و کمزور مریضوں کو کھلایا جاتا ہے۔ ڈاکٹر حضرات تو مجھے خاص طور پر تجویز کرتے ہیں کہ اس مریض کو زیادہ زیادہ سیب کھلائیں۔ میں اس وقت سر پکڑ کر بیٹھ جاتا ہوں۔

انگور: ہمیں یہ انسان اس طرح چن چن کر کھا جاتے ہیں۔ جس طرح پرندہ دانوں کو چگ لیتا ہے۔ ہم کیا کریں؟ ایک مثل مشہور ہے کہ نہ اتنا میٹھا بنو کہ کوئی کھا لے اور نہ اتنا کڑوا بنو کہ کوئی کھا کر تھوک دے۔ ہم تو اتنے میٹھے ہوتے ہیں کہ انسان ہمیں کھائے چلے جاتے ہیں۔ یہاں تک کہ ہمارا چھلکا بھی باہر  نہیں نکالتے۔

تربوز: دنیا والو دیکھو کہ میرے اوپر کتنا ظلم ہوتا ہے۔ دوسرے پھلوں کو تو چھوٹی سی چھری سے کاٹ لیتے ہیں جبکہ میرے پیٹ میں چھرا گھونپ دیتے ہیں۔ مجھے اس طرح کاٹ دیتے ہیں جیسے بکرے کو عید پر کسائی کاٹ دیتا ہے۔ کیا ستم ظریفی ہے کہ کوئی مجھے کھا لیتا ہے، کوئی پی لیتا ہے اور کوئی چوس کر تھوک دیتا ہے۔

کھجوریں: ہائے ہائے ہم کس قدر ننھی منھی چھوٹی چھوٹی ہوتی ہیں۔ ہم انسانوں کے ڈر سے کتنی بلندی پر ہوتی ہیں اور خوش ہوتی ہیں کہ انسان اتنا اونچا نہیں پہنچ سکے گا۔ ان کی بے بسی پر ہنستی ہیں مگر کیا پتہ تھا کہ یہ انسان کمر میں رسی ڈال کر یا سیڑھی لگا کر ہم تک پہنچ جاتے ہیں اور ہمیں مزے لے کر کھاتے ہیں۔ خاص طور پر جب رمضان کا مہینہ آتا ہے تو ہمیں پلیٹوں میں سجا کر کھانے والوں کو پیش کرتے ہیں۔ ہماری ننھی سی جان پر ذرا بھی ترس نہیں کھاتے۔ انسان بازاروں میں ہمیں ڈھونڈتے پھرتے ہیں۔

خربوزہ: مجھے دیکھو، مجھ پر کس طرح ظلم ہوتا ہے۔ مجھے چھری سے ٹکڑے ٹکڑے کر دیا جاتا ہے۔ میں بالکل پھول کی طرح بن جاتا ہوں۔ پھول کی پتیوں کو تو توڑا جاتا ہے مگر میری پتیوں یعنی کاشوں کو تو انسان نوچ نوچ کر کھا جاتا ہے۔

ناریل: میں بہت سخت جان ہوں اور میرا سر بالکل انسان کے سر کی طرح سخت جان ہوتا ہے۔ اوپر انسانوں کی طرح بال ہوتے ہیں مگر پھر بھی انسان مجھے نہیں چھوڑتے۔ میرے بال حجام کی طرح نکال کر میری ٹنڈ نکال دیتے ہیں۔ میرے سر میں سوراخ کر دیتے ہیں۔ پھر ایک پائپ داخل کر دیتے ہیں جس طرح ڈاکٹر آپریشن کے بعد ایک نلکی مریض کے پیٹ میں لگا دیتے ہیں۔ میرا آپریشن انسان کر دیتے ہیں۔ پھر اسی پر بس نہیں کرتے، میرے سر کے اوپر لوہے کا ڈنڈا مارتے ہیں اور میرا سر کچل دیتے ہیں اور پھر مزے مزے سے میرا بھیجہ یعنی دماغ کھا جاتے ہیں۔

کینو: ہمارے ساتھ جو انسانوں کو سلوک ہے وہ ملاحظہ فرمائیں۔ کس قدر ظلم ہے کہ جب ہم آتے ہیں تو یہ انسان خوب مزے لے لے کر ہمیں کھاتے ہیں۔ کھا کھا کر پیٹ نہیں بھرتا تو ہمارا جوس نکال کر بوتلوں اور ڈبوں میں بھر لیتے ہیں اور پورا سال ہمارا جوس پیتے ہیں۔

انار: ہمارا حال بھی سنیئے، اگر ہم میٹھے نکلیں تو مزے مزے سے کھاتےہیں، اگر کھٹے نکل آئیں تو انار دانہ بنا لیتے ہیں۔ چھوڑتے پھر بھی نہیں ہیں۔ انار دانہ بنا کر پکوڑوں کے ساتھ چٹنی بناتے ہیں، پھر ہمیں سامنے رکھ کر ہمیں دیکھ کر کہتے ہیں کہ دانے دانے پر لکھا ہے کھانے والے کا نام۔

آم: میں پھلوں کا بادشاہ کہلاتا ہوں، مجھے فخر حاصل ہے کہ میں قدرت کا شاہکار ہوں۔ میری خوشبو، مزہ، رنگ اور خوبصورتی کا کوئی ثانی نہیں ہے۔ لیکن میں بڑی ہی غلط فہمی کا شکار رہتا ہوں۔ انسان میری بے تحاشا پپیاں لیتے ہیں۔ میں سمجھتا ہوں کہ مجھے پیار کر رہے ہیں مگر مجھے اس وقت پتہ چلتا ہے جب میری صرف گٹھلی رہ جاتی ہے۔ اور انسان مجھے چوس جاتے ہیں۔


About shakeel

I live in Lahore, Pakistan