اب لوٹ کر نہ آنا

دادی جان کی آرزو تھی کہ میری شادی نوید سے ہو۔یہ میرے تایا کا بیٹا تھا اوردادادادی نے میری منگنی نوید کے سا تھ ا س وقت طے کر دی تھی جب ابھی ہم بچے تھے۔

دادا علاقے کے مشہور زمیندار تھے۔پہلے ہم سب اکھٹے رہا کرتے تھے لیکن دادادادی کی وفات کے بعد ابو اور تایا کے درمیان جائداد کا بٹوارا ہو گیا تو ابو اور تایا علیحدہ علیحدہ گھروں میں رہنے لگے۔

جائیداد میں ایک بڑی حویلی بھی تھی جو آبائی رہائش گاہ تھی۔ اس پر والد اور تایا میں جھگڑ١ چل پڑا ۔۔۔اور ملکیت کی خاطر آپس میں ٹھن گئی تو میری اور نوید کی منگنی کا بندھن بھی ٹوٹ گیا ۔ حالانکہ منگنی کا بندھن روحوں کا تعلق بن گیا تھا۔

میرا نوید کے ساتھ محبت کا رشتہ بچپن سے جڑا تھا ۔منگنی کے ٹوٹ جانے کے باوجود یہ رشتہ نہ ٹوٹ سکااور جدا ہو کر بھی یاد دل سے نہ گئی۔ایک گھر میں پلے بڑھے تھے ہمارا پیار ہر قسم کے لالچ سے پاک تھا۔

دل کے ہاتھوں مجبور ہم چھپ چھپ کر ملنے لگے کیونکہ ہم دونوں بزرگوں کے اختلافات کی وجہ سے مایوس نہیں تھے ا ُمید تھی کہ آج نہیں تو کل یہ اختلافات ختم ہو جائیں گے اور ہماری شادی ہو جائے گی۔تایا اور ابو سگے بھائی تھے بھلا کب تک دور رہتے ۔

یہ خام خیالی رہی ۔بزرگوں کے اختلافات میں کمی نہ آئی۔یہ اور بڑھتے گئے ۔تماشا دیکھنے والے رشتہ داروں نے اور ہوادی یوں ہم دو ایسے کناروں کی مانند ہو گئے جو ساتھ ساتھ چلتے ہوئے بھی کبھی مل نہیں سکتے۔

میں نے بی اے کے پر چے دئیے تووالدین نے رشتے ڈھونڈنے شروع کر دئیے۔ایک روز والدہ نے بتایا کہ آج کچھ خاص مہمان آرہے ہیں تم ٹھیک ٹھاک لباس پہن لینا وہ تمہیں دیکھنے آرہے ہیں ۔

یہ خبر مجھ پر بجلی بن کر گری پریشان ہوکر امی سے کہا کہ میں نوید کے سوا کسی سے شادی نہیں کروں گی۔برائے مہربانی آپ مہمانوں کو منا کر دیجئے کہ وہ نہ آئیں۔

امی نے میرا موڈ بگڑا ہوا دیکھا تومنت سماجت کرنے لگیں کہ بیٹی دیکھو۔۔۔۔۔کسی کے اس طرح آجانے سے شادیاں نہیں ہو جاتی تمہارے ابو کے دوست اور ان کی بیوی کہہ رہے ہیں تو اب میں کیسے انہیں منع کر سکتی ہوں ۔تمہارے والد کو کیا جواب دوں وہ بہت خفا ہوںگے ۔تم بیشک شادی کے لئے رضامندی نہ دینا ۔۔۔لیکن اب جو مہمان گھر آرہے ہیں ان کو خوش آمدید تو کہو کسی مہمان کو خوش آمدید کہنا ہی پڑتا ہے بعد میں بیشک ہم انکار کر دیں گے۔امی نے کچھ اس طرح لجاکر بات کی کہ مجھ کو ان پر رحم آگیا۔ سوچا ٹھیک ہی تو ہے مہمانوںکو خوش آمدید کہنے یا ان سے ہنس کر بات کر لینے میں کیا حرج ہے ۔ابھی رشتہ کے لئے ہاں تو نہیں ہوگئی جب مجھ سے مرضی پو چھی جائے گی نہ کہہ دوں گی۔

اس روز جب ابو کے دوست اور ان کی بیوی آئے میں نے خندہ پیشانی سے سلام کیااور چائے وغیرہ لا کر دی میری خاطر مدارات پر وہ خوش ہوگئے یہ میزبانی امی کی خاطر کی تھی۔ سوچا چلواس بار ٹل جائیں دوبارہ خود یہ مہمان نہیں آئیں گے ۔

ہفتہ گزر گیا تب امی نے بتایا کہ وہ لوگ دوبارہ آرہے ہیں اس بار ان کا بیٹا بھی ساتھ آ رہا ہے جس کے ساتھ تمہارے ابو رشتہ کرنا چاہتے ہیں اگر چاہو تو دروازے کی اوٹ سے اسے دیکھ لینا ۔۔۔ یہ سن کر میں سٹپٹا گئی کہ اب کیا ہوگا یہ معاملہ تو آگے بڑ ھتا جارہا ہے۔

تب میںنے اپنی ملازمہ کو نوید کے پاس بھیجا کہ جاکر اسے کہو مجھ سے ملے۔اس نے پیغام پہنچادیا۔

یہ ہماری پرانی ملازمہ تھی ۔ دادی کے وقتوں سے ساتھ رہتی تھی سب حالات جانتی تھی ۔ اماں خانم بھی یہی چاہتی تھی کہ میرا رشتہ نوید کے ساتھ ہو کیونکہ اس نے مجھے اور نویدکو ایک ساتھ گود میں کھلایا تھا۔نوید سے ہم اماں خانم کی بیٹی کے گھر ملے جو شادی شدہ تھی تاکہ آرام سے بیٹھ کر بات کر سکیں ۔میں نے نوید کو بتایا کہ یہ صورت حال ہے۔ ابا جان میری شادی اپنے دوست اسرار صاحب کے صاحبزادے سے کرنے پر تلے ہیں۔ اب تم بتائو کیا کرنا ہے۔

یہی حال ادھر ہے۔ابو میری شادی اپنے دوست کی بیٹی شہلا سے کر رہے ہیں لیکن ہم دونوں کو یہ فیصلہ نہیں ماننا چاہئیے کیونکہ دل سے ہم ایک دوسرے کے ہو چکے ہیں ۔

لیکن ۔۔۔۔۔۔حقیقت میں تو کچھ اور ہونے جارہا ہے ۔وہ لوگ کھانے پر دو ایک روز میں آنے والے ہیں اور یہ سلسلہ یوں ہی بڑ ھتا چلا جارہاہے اس سلسلے کو ابھی روکنا ہوگاکل کو بزرگوں نے زبان دیدی پھر ان کو موقف سے ہٹانا مشکل ہو جائے گا

ہاں تم ٹھیک کہتی ہو نوید نے کہا۔ کل وہ لڑکی بھی اپنے والدین کے ساتھ ہمارے یہاں آرہی ہے۔امی کاکہنا ہے ایک نظر تم شہلا کو دیکھ  لو۔

یہ سن کر میری آنکھیں بھر آئیں۔ ٹھیک ہے۔ میں نے کہا ۔تو پھر تم نے کیا سوچاہے ۔

 امی کہتی ہیں ۔ابھی سے ہاں تو نہیں ہو رہی پھر لڑکی دیکھ لینے میں کیا ہرج ہے ؟

میں رو پڑی نوید۔۔۔۔تم کو وہ لڑکی اگر اچھی لگی تو تم پسند کر لینا ۔میرا کیا ہے رو دھو کر جی لوں گی۔

یہ کیا کہہ دیا تم نے مومنہ۔۔۔ایسا ہر گز نہیں ہو سکتا میں تم کو دھوکا دوں ۔ہم تم ایک دوسرے کے لئے بنے تھے اور ایک دوسرے کے لئے ہی بنے ہیں صرف تم کو حالات سے آگاہ کیا ہے۔ امی ابو نے اسرار کیا تو شہلا سے بس مل لوں گا نکاح تو نہیں کر رہا ۔۔۔تم خاطر جمع رکھو۔

اس وقت ہم دونوں بہت جذباتی ہو رہے تھے ساتھ نبھانے کی قسمیں اور وعدے ایک بار پھر دہرائے اور ایک نئے عزم کے ساتھ جدا ہو گئے۔ ہفتہ بعد ہماری ملاقات فیصلہ کُن تھی کیونکہ میرے ابو نے اپنے دوست کو میرے رشتے کے لئے ہاں کہہ دی تھی۔

نوید کو بتایا تواس نے کہا میں نے ایک دوست سے بات کر لی ہے۔ چار روز بعد تمہاری خالہ زاد کزن کی شادی ہے تم شادی میں آئو گی وہاں سے نکل کر چوک تک آجانامیں اپنے دوست کے گھر پہنچا دوں گا اور پھر ہم کورٹ میرج کر لیں گے ڈرو نہیں سہیل اکیلا نہیں رہتا ۔گھر میں اسکی والدہ اور بہن بھی ہوتی ہیں تم ہر طرح سے اس گھر میں محفوظ رہو گی اور جو نہی نکاح کے انتظامات مکمل ہونگے میں تم کو لینے آجائونگا ۔

کزن کی شادی میں امی نے مجھے خالہ کے گھر چھوڑ ا اور رخصتی والے دن رات کو میں ان کے گھر سے نکل کر چوک تک آئی جہاں نوید اپنے دوست کی گاڑی لئے منتظر تھا جھٹ پٹ میں کار میں بیٹھ گئی پھر مجھے اپنی امانت کہہ کر اس نے سہیل کے حوالے کیا اور وعدہ کیا کہ میری امانت کی حفاظت کرے گا جب تک کہ میں اسے لینے نہ آجائوں ۔میں نکاح کے انتظامات کے سلسلے میں کسی وکیل سے ملنے جائونگا اور کچھ رقم کا بھی بندوبست کروں گا۔ وہ مجھے سہیل کے سپرد کر کے خود گھر لوٹ گیا۔

اب میں سہیل کے گھر پر ان کی والدہ اور بہن کے ہمراہ رہنے لگی ان خواتین کو خدا جانے سہیل نے کیا سمجھایا کہ وہ مجھ سے پیار سے پیش آتی تھیں اور سہیل بھی مجھے مو منہ بہن کہتا تھا اور میں اس کو سہیل بھائی، کہ ابھی تک تو ہم دونوں میں یہ ہی رشتہ تھا ۔

ادھر انوید اپنے والد سے رقم نکلوانے کی تدبیریں کر رہا تھا اور اس کے ابو نے اس کو پابند کر دیا کہ رقم تم کو تبھی ملے گی جب تم ہمارا مان رکھو گے کل لڑکی والے آرہے ہیں اس بار لڑکی سے بات چیت کر لو تو پھر میں تمہاری شادی کی بات پکی کر لوں گا۔

نوید نے سوچا والد کو اسی صورت میں چکر دیا جاسکتا ہے اگر وہ لڑکی سے اچھی طرح بات کر لے ۔۔۔۔تبھی باپ سے رقم ہتھیائی جاسکتی ہے لہذا جب شہلا والدین کے ہمراہ گھر آئی تو نوید نے خندہ پیشانی سے اس کا استقبال کیا اور خوشدلی سے بات چیت کی وہ تو باپ کو راضی دیکھنا چاہتا تھا تاکہ رقم مانگ سکے۔

لڑکی سے خوشدلی سے گفتگو کرتے دیکھ کر نوید کی والدہ نے کہا بیٹا ذرہ اسے اپنا باغ تو دکھائو ۔شہلا بہت خوبصورت تھی لیکن کچھ چپ چپ سی تھی ۔

کیوں چپ چپ ہو کیا تمہیں ہمارا باغ پسند نہیں آیا ۔

ان چیزوں سے زیادہ لوگوں کی اہمیت ہوتی ہے اچھے ہوں تو سب اچھا ہوتا ہے۔ میرا مزاج  سنجیدہ ہے تبھی چپ ہوں ۔

یہ عمر سنجیدہ مزاجی کی نہیں ہے کوئی بات تو ہے۔

امی جب سے فوت ہوئی ہیں مجھ سے خوشیاں روٹھ گئی ہیں اور یہ میری ماں جو ساتھ آئیں ہیں سو تیلی ہیں بہت سنگدل ہیںمجھ سے جو سلوک روا رکھتی ہیں بتا نہیں سکتی۔ ہر وقت دل دکھتا رہتا ہے اپنا دکھ کسی سے نہیں کہہ پاتی۔ یہ کہتے کہتے اسکی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے۔ جب نوید نے اس کے اداس چہرے کی طرف دیکھا تو سمجھ گیا واقعی یہ لڑکی اندر اندر گٹھتی رہتی ہے اور اس کا دکھ مجھ سے زیادہ ہے ۔

جب شہلا کے اداس چہرے کی جانب دیکھا تو دو بھیگی آنکھیں اس کے دل میں گڑھ گئیں ان دکھ بھری آنکھوں میں کچھ ایسی تاثیر تھی کہ اس کا دل لرز کر رہ گیا اور ہمدردی کے جذبات پیدا ہو گئے ۔

نوید کو سچ کہتے ہی بنی اس نے کہا۔ شہلا ۔۔۔۔اگر میں اپنی چچا زاد جو میری منگیتر بھی تھی سے شادی کا عہد نہ کر چکا ہوتا تو تمہیں سے شادی کرتا لیکن اب مجبوری ہے ۔

یہ بات ہے تو اپنی پریشانی مجھے سونپ دیجئے ،اچھا ہے کہ اصل بات کہہ دی ہے ،مجھے تو دکھ  سہنے کی عادت پڑ گئی ہے آپ سے شادی ہو یا کسی اور سے میرے لئے کوئی فرق نہیں پڑے گا لیکن آپ کے لئے اپنی منگیتر کو پان کر بہت فرق پڑے گااب میں خود اس رشتے سے انکا ر کرتی ہوں ابو سے کہہ دو ں گی مجھے آپ سے شادی نہیں کرنی امی خفا ہونگی تو سہہ لوں گی ۔

نوید کے دل میں اس کے لئے مقام پیدا ہو گیا کہ کتنی اچھی اور سمجھدار لڑکی ہے بن کہے سمجھ گئی ہے کہ میں مومنہ سے کتنا پیار کرتا ہوں اس کا جی چاہا قدم چھوکر شکریہ ادا کرے جس نے ایک بڑی الجھن اور پریشانی سے بچالیا تھا ۔

ادھر میں سہیل کے گھر تھی اورعجیب وغریب حالات میں گھری نوید کا انتظار کر رہی تھی۔ امی سمجھ رہی تھیں کہ ابھی تک خالہ جان کے گھر ہوں اور خالہ سمجھ رہی تھیں کہ اپنے گھر چلی گئی ہوں لیکن یہ بھانڈا جلد پھوٹنے والا تھا۔

نوید کے انکار سے تایا ابو ضرور آپے سے باہر ہوجاتے مگر شہلانے دانائی سے انکار کر کے اس کی ایک بہت بڑی مشکل حل کر دی تھی۔ شہلا کی اس قربانی پر نوید مسرور تھا وہ میرے پاس جلد از جلد آنا چاہتا تھا لیکن مجبوری یہ تھی کہ ابھی تک اس کے والد سے اسے رقم نہ ملی تھی۔

شہلا نے جب نوید سے شادی سے انکار کیا تو اس کی سوتیلی ماں نے قیامت اٹھادی ۔ان کے گھر میں ایسا جھگڑا ہوا کہ شہلا دہل گئی والدین نے پھر اس کی نہ سنی اور تایا ابو کے پاس آکر شادی کی تاریخ دے دی ۔

تایا ابو کو اندازہ ہو گیا تھا کہ نوید بھاگنے کی فکر میں ہے اس لئے رقم کا مطالبہ کر رہا ہے ۔انھوں نے تین دن کے اندر اندر نکاح کی تقریب رکھ دی۔ اس کے ساتھ ہی اس کو گھر میں پابند کر دیا خود نگرا نی کرنے لگے تاکہ وہ باہر نہ جاسکے جب وہ باہر جانے کو کہتا خود ساتھ جانے کو تیار ہو جاتے۔ ساتھ ہی ساتھ انہوں نے سب کو شہلا اور نوید کی شادی کا مثردہ بھی سنا دیا نوید نے بہت کو شش کی کہ سہیل کے گھر آکر مجھ سے مل سکے تایا نے مہلت نہ دی یوں میرا غم زاد اپنے باپ کے آگے چوں بھی نہ کر سکا اور باپ کے دبائو میں اسٹیج پر دلہا بن کر بیٹھ گیا۔

شادی کے دس روز بعد اس کو مجھ تک آنے کا موقع ملا جب وہ سہیل کے پاس آیا تو دوست نے اس کو بہت لتاڑا ۔کیونکہ میرے والدین نے میرے اغوا کی رپورٹ تھانے میں درج کرادی تھی سہیل نے اسے مجھ تک آنے نہ دیا اب کیا فائدہ کہ وہ شہلا کا شوہر بن چکا تھا ۔

اس کی شادی کی خبر سے مجھ پر قیامت گزر گئی تھی اب میں گھر کی رہی تھی نہ گھاٹ کی۔ حقیقت یہ تھی کے جب تایا کو پتہ چلا کہ مومنہ گھر سے بھاگ گئی ہے تو انہوں نے جھٹ پٹ بیٹے کی شادی کی تقریب منعقد کرادی تاکہ ان کے بیٹے پر والدصاحب کا شک نہ ہو ۔

والد صاحب نے یہ ہی سمجھا کہ نوید کی شادی کا صدمے میں کہیں دریا میں چھلانگ لگا کر زندگی کا خاتمہ کر بیٹھی ہوں بیشک نوید نے بزدلی دکھائی تھی۔اغوا کے الزام سے بچنے کے لئے اپنی شادی کے شادیانے بجا لئے ۔لیکن میں بے موت ماری گئی مجھ سے بھی زیادہ پریشانی سہیل کو اٹھانی پڑی ۔

دوست کی خا طر اس کی محبوبہ کو پنا ہ دینے کی وجہ سے وہ اب ایک عذاب میں مبتلا ہو گیا تھا ۔نوید نے سہیل سے بہت معافی طلب کی اور کہا کہ تم نکاح کا انتظام کرو میں مومنہ سے بھی کرتا ہوں میں اس سے نکاح کرنے ہی آیا ہوں۔

یہ بات سہیل نے مجھے آکر کہی ۔اس نے کہا چاہو تو نوید سے خود بات کر لو میں سختی سے نوید کے ساتھ بات کرنے سے انکار کردیا سہیل کو کہا کہ اسے کہو اب یہاں سے چلا جائے میں زندگی بھر اس کی شکل نہیں دیکھوں گی ،میں اس سے نکاح کروں جس نے مجھ کو گھر سے بھاگنے کی ترغیب دے کر بیچ منجدھار میں مرنے کے لئے چھوڑ دیا اور خود شادی رچالی۔

نوید کے جانے کے بعد اس رات میں نے خود کو ختم کرنے کی ٹھان لی اور کچھ خود کشی کی کوشش کی مگر سہیل نے بر وقت پہنچ کر مجھ کو خود کو جلانے سے با ز رکھا اس نے کہا۔ مومنہ ہم پرترس کھائو کیا کسی کو پناہ دینے اور اس پر احساس کرنے کا یہی صلہ ہے جو تم ہمیں دے رہی ہو ۔

تمہارے اغواء کے کیس میں، میں ہی پھنسوں گا حالانکہ میں نے تم کو اغواء نہیںکیا اب تم خود کشی کر کے مجھے قتل کے کیس میں پھنسارہی ہو۔ خدا کے لئے باز آئو۔ اس بیوقوفی سے کیوں ہم شریفوں کو پھانسی لگوانا چاہتی ہو۔ سہیل صحیح کہہ رہا تھا واقعی اس طرح وہ بیچارہ جیل چلاجاتا جو پہلے ہی جیل جانے سے ڈر رہا تھا۔

اس کے بعد کئی بار نوید آیا لیکن ہر بار میں نے اس سے ملنے سے انکار کر دیا ادھر سہیل کا اسرار تھا کہ تم اپنے والد سے رابطہ کرو ان کو تمام احوال کہو اور واپس گھر لوٹ جائو ۔

گھر لوٹ کر جانا میرے لئے محال تھا کہ والد صاحب شوٹ کر دیتے۔ میں نے ان کی عزت کو خاک میں ملا دیا تھا اور ان کو کہیں منہ دکھانے کے قابل نہ رکھا تھا ۔

ذہنی دبائو سے میں شدید بیمار ہو گئی تو سہیل نے مجھے ہسپتال میں داخل کرادیا کیونکہ اس کی ماں ایک نیک اور شریف عورت تھی وہ میرے دکھ سے بہت زیادہ پریشان تھیں اور میں انکو اماں جی کہتی تھی۔اماں جی نے کہا بیٹی اگر تم پسند کرو تو میرے بیٹے سہیل کے ساتھ نکاح کر لو ورنہ اس طرح ہمارے گھر رہنا تمہارا ٹھیک نہیں ہم پر کوئی مصیبت آسکتی ہے۔ سہیل بہت پریشان ہے تم والدین کے پاس لوٹ جانے پر راضی نہیں ہو اور ہم تم کو اپنے گھر سے زبردستی نکال نہیں سکتے اب تم ہی بتائو ہم کیا کریں اور ایسے کب تک تم یہاں چھپی رہوگی آخر کبھی نہ کبھی تمہارے گھر والوں کو خبر ہو جائے گی ۔

ان کی بات ٹھیک تھی۔ سہیل کی ماں اور بہن دونوں کا سلوک میرے ساتھ محبت بھرا تھا مجھے بھی ان لوگوں سے انسیت ہو گئی تھی اور انکی شکر گزار تھی کہ ان کی وجہ سے یہاں ابھی تک میری عزت محفوظ تھی۔

بہت سوچ بچار کے بعد میں نے اماں جی کو اپنی زندگی کے فیصلے کا اختیار دے دیا ۔سہیل کو خود کو محفوظ کرنے کا یہ ہی راستہ تھا کہ میرے ساتھ نکاح ہو جائے ۔یوں ہم دونوں نے ایک دوسرے کے زخموں پر مرحم رکھا۔ ادھر شہلا اپنی شوہر کی پریشانی جانتی تھی اس نے نوید کو سمجھایا کے جوڑے آسمانوں پر بنتے ہیں ۔تمہاری شادی مجھ سے ہونا تھی سو ہو گئی اور مومنہ تمہاری قسمت میں نہ تھی سو کسی اور کی ہو گئی۔اب غم کرنا چھوڑ کر زندگی کی حقیقتوں سے سمجھوتہ کر لو۔ میری زندگی کو سولی پر نہ چڑ ھائو مجھے خوشیاں دو تاکہ میں بھی تم کو خوشیاں دے سکوں۔

شہلا اچھی لڑکی تھی وہ اپنے صبر وتحمل اور دانائی کی بدولت نوید کو پسند آگئی اور اس کے ساتھ میرے غم زاد کی زندگی اچھی گزر نے لگی ۔میں نے جسکی خاطر گھر چھوڑا وہ میرا نہ ہو سکا تو اپنے غم گسار کا صائبان اوڑھ لیااگر ایسا نہ کرتی اور کہاں جاتی۔

آج بھی سہیل کی منکوحہ ہوں یہ شریف لوگ ہیں اس رشتہ کی لاج رکھی میری عزت بچائی اور نباہ کیا لیکن والدین سے جدائی کا غم نہیں جاتا۔ سہیل سے شادی کے کچھ عرصے بعدوالد صاحب کوپیغام بھجوایا تھا اور تمام حالات گوش گزار کرائے تھے۔ ان کی طرف سے یہ ہی جواب ملا کہ ہمارے دروازے پر مت آنا،  یہ دروازہ نہ کھلے گا۔تم ہمارے لئے مر چکی ہو جیسے ہمارا بھائی ہمارے لئے مر چکا ہے جس نے ایک حویلی ہتھیانے کے لئے ہم پر کیس کیا اس نے کیس تو جیت لیا مگر محبت کے رشتوں کو ہار دیا ویسے ہی تم نے ہمارے ساتھ کیا ہے۔جہاں ہو وہیںرہو تاکہ تمہاری باقی زندگی بھی عزت سے گزر جائے ۔

والد صاحب کے سخت جواب سے میرا دل ٹوٹ گیا جیسے میرے بھاگ آنے سے ان کا ٹوٹا تھا اور سچ ہے دل ٹوٹ جائے تو پھر نہیں جڑتے۔