دیکھورُسوانہ کرنا

ہم دو ہی بہنیں تھیں۔ مجھ کو اپنی بہن گل بہشت سے بہت پیار تھا۔ وہ مجھ سے دس برس بڑی تھیں۔سچ کہوں میرے لئے بہن سے زیادہ ماں جیسا درجہ رکھتی تھیں۔ جن دنوں میں تین برس کی تھی والد صاحب کا انتقال ہو گیا۔ اماں بھر پور جوان بھی تھیں۔ بیوگی نے ان کو سہما کر رکھ دیا۔ ہمارے ایک تایا لندن میں مقیم تھے۔ وہاں پڑھنے گئے تھے پھر ایک گوری سے شادی کر لی۔ یہ شادی جلد ٹوٹ گئی اور ازدواجی سکون ان کو راس نہ آیا، پھر انہوں نے شادی نہ کی لیکن برطانیہ کی شہریت حاصل کر لی۔

وہ والد صاحب کی زندگی میں صرف دو بار آئے تھے، کبھی کبھار فون پر رابطہ کر لیا کرتے تھے۔ جب ابو فوت ہوئے تو رشتے داروں میں سے کسی نے ان کو اطلاع دی۔ وہ خصوصی طور پر آئے۔ امی جان کو تسلی دی اور کہا کہ آپ فکر نہ کریں۔ اگر آپ نے دوسری شادی نہ کیااور اپنی بچیوں کے لئے خود کو وقف کر دیا تو میں آپ کو انگلینڈ سے خرچہ بھجواتا رہوں گا۔ امی نے اقرار کر لیا کہ ان کا دوسری شادی کا قطعی کوئی ارادہ نہیں ہے۔ تایا ابو بے فکر ہو کر انگلینڈ واپس لوٹ گئے۔ تایا نے وعدہ نبھادیا، وہ ہر ماہ باقاعدگی سے معقول رقم ہمارے اخراجات کی خاطر بھجواتے رہے۔ یوں ہماری یتیمی اور والدہ کی بیوگی کے پانچ چھ برس سکون سے گزر گئے۔

امی جان اکثر سوداسلف لینے خود بازار جاتی تھیں، ان دنوں آپا بی اے کے آخری سال میں تھیں، میں دس برس کی تھی غالباً پانچویں میں پڑھ رہی تھی،جب اچانک ہمارے پر سکون گھر کے حالات تبدیل ہونا شروع ہو گئے۔ امی جان کی شناسائی ایک جنرل اسٹور کے مالک سے ہو گئی، وہ شادی شدہ تھا لیکن بیوی فوت ہو گئی تھی اس کا نام ثاقب تھا۔
ثاقب کے پاس امی اکثر ضرورت کی اشیاء خرید نے جایا کرتی تھیں۔ میری امی خوبصورت تھیں، جانے کب ثاقب نے ان سے التفات برتنا شروع کر دیا، پھر دونوں میں دوستی ہو گئی اور عشق کا سلسلہ دراز ہوتے ہوتے بات شادی پر ٹھہری۔
شاید میری ماں کو بیوگی سانپ کی طرح ڈسنے لگی تھی۔ ثاقب شادی پر اصرار کر رہا تھا، ادھر میری ماں کے روزوشب تنہائی کی آگ میں زہر آلود ہو رہے تھے۔ بیوہ کی شادی احسن امر ضرور ہے لیکن جب دو بیٹیاں جوانی کی دہلیز پر قدم رکھ چکی ہوں، پھر بیوہ ماں کو زیب نہیں دیتا کہ وہ اپنا گھر بسا لے۔ زمانہ ایسی ہی باتیں کرنے لگا کہ لڑکیوں کے گھر بسانے کی بجائے تانیہ بیگم کو دیکھو اپنی شادی کرنے کی سوجھی ہے۔
ماں نے ہر طرح سے سوچا پھر اپنے جذبات کے آگے ہتھیار ڈال دےئے۔ اب ثاقب ہمارے گھر آنے لگے۔ پہلے ہم کو شک تھا اب راز کھل کر سامنے آگیا تو ہم دونوں بہنیں بہت پریشان رہنے لگیں۔ ہماری عمروں کے درمیان خاصا فرق تھا لیکن ماں کے اس چکر کی وجہ سے ہم ایک دوسرے سے زیادہ قریب ہو گئیں۔
کہتے ہیں کہ ایک بار جھجک جاتی رہے تو پھر بے باکی کا کوئی کنارہ نہیں رہتا۔ ماں کی بے باکیاں بڑھتی جاتی تھیں اور ہم اپنے گھر میں ایک غیر مرد کو بلا تکلف آتا جاتا دیکھ کر سمٹتی جاتی تھیں۔ اب ثاقب دن کے علاوہ رات کو آکر ہمارے گھر سونے لگا۔ آپا نے احتجاج کیا۔ ماں سے صاف کہہ دیا کہ اماں اس گھر میں ان حالات میں ہم رہیں گے یا پھر آپ۔۔۔۔۔ ورنہ ثاقب صاحب سے ہمیشہ کے لئے نا تا ختم کر دیں۔
والدہ کے لئے اب اپنے محبوب سے نا تا ختم کرنا ممکن نہ رہا تھا۔ جو ان بیٹیوں کے ہوتے محبت کی ساری حدیں کراس کر گئی تھیں، اب صرف نکاح ہونا باقی تھا اور اس امر میں ہم دونوں بڑی رکاوٹ تھیں۔
خدا کی کرنی انہی دنوں تایا ابو لندن سے ملنے آگئے ۔ جس روز وہ آئے اتفاق سے امی گھر پر نہ تھیں۔ ہم کو موقع مل گیا ہم نے رو رو کر تایا ابو سے حقیقت حال بیان کر دی۔
وہ کہنے لگے۔ دیکھو میری بچیو! جہاں تک تمہاری ماں کی شادی کا معاملہ ہے میں ان کو نہیں روک سکتا کیونکہ ان کا دینی اور شرعی حق ہے، اخلاقاً بھی ان کو اس امر سے منع نہیں کیا جا سکتا۔ اگر تم روکوگی اول تو وہ اب رکیں گی نہیں۔ دوئم تم کو گناہ ہو گا کیونکہ تم ان کو ایک جائز کام سے روک کر گناہ کی جانب جانے پر مجبور کروگی لہٰذا میں یہ کر سکتا ہوں کہ تم دونوں بہنوں کو علیحدہ گھر خرید کر دے جاؤ ں اور تم والدہ سے دوری اختیار کر لو۔
جس مکان میں ہم رہائش پذیر تھے وہ در حقیقت والدہ کا تھا اور ان کے نام تھا۔ یہ گھر ان کو نانا جان کی طرف سے ورثے میں ملا تھا کیو نکہ وہ اپنے والد کی اکلوتی اولاد تھیں ، مکان کی بلا شرکت غیرے مالک تھیں۔ ہم ان کو اس مکان سے نہیں نکال سکتے تھے لیکن وہ ہم کو عاق کر سکتی تھیں۔
تایا ابو نے ہم کو ایک محفوظ علاقے میں گھر خریددیا اور امی سے بھی بات کی۔ فیصلہ یہ ہوا کہ ہم دونوں بہنیں خاندان کی ایک بزرگ خاتون کے ہمراہ اس مکان میں شفٹ ہو جا ئیں گی اور والدہ اپنے گھر میں قیام پذیر رہتے ہوئے اگر دوسری شادی کی آرزو پوری کرنا چاہتی ہیں تو کر سکتی ہیں لیکن ان کے شوہر ثاقب کا ہم بچیوں سے کوئی ناتا واسطہ نہ ہو گا۔
والدہ نے تایا ابو کی باتیں مان لیں۔ ہم دونوں بہنیں تایا کے عطا کردہ نئے مکان میں شفٹ ہو گئے، نا بینا پھوپھی جو ایک رشتہ دار کے ہاں اقامت پذیر تھیں، تایا ان کو لے کر آئے اور وہ ہمارے ساتھ رہنے لگیں۔
اس واقعے کے صرف دو برس بعد ہی تایا ابو وفات پا گئے۔ ہم امی سے نا تا ختم کر چکے تھے، اب آپا ہی میری سر پرست تھیں۔
دودھیال سے دو تین اچھے رشتے آئے مگر آپا نے منع کر دیا، کہنے لگیں میری زندگی کا مقصد گل لالہ کو پڑ ھانا لکھا نا، اچھی تعلیم دلوانا اور ڈاکٹر بنانا ہے، اگر میں نے شادی کر لی تو میری اس معصوم بہن کا کیا ہو گا۔ ہم دونوں ماں سے سخت ناراض تھیں، ان سے ملنے یا ان کے پاس جانے کا اب سوال ہی پیدا نہ ہوتا تھا۔
میری بہن نے بہر حال بڑی قربانی دی۔ وہ بی اے کر چکی تھیں، پھر بی ایڈ کیا اور ایک اسکول میں ٹیچر لگ گئیں، اب ہمارا گزارہ اور میرا تعلیمی خرچہ سب ان کی تنخواہ کا مرہون منت تھا۔
وقت گزرتا گیا۔ میں نے ایف ایس سی بہت اچھے نمبروں سے پاس کر لیا، میری پوزیشن آگئی خوش قسمتی سے میڈیکل کالج میں داخلہ مل گیا اور میں اپنی منزل کی طرف چل پڑی لیکن آپا بچاری کی زندگی ایک مجبوری بن گئی۔
ان کے اب بھی اچھے رشتے آتے ، کبھی کوئی ان کی کولیگ اپنے بھائی کے لئے رشتہ لاتیں تو کبھی ابو کے رشتہ داروں میں سے کسی کارشتہ آجاتا لیکن آپا نے ہر رشتہ صرف اور صرف میری خاطر ٹھکرا دیا تا کہ میں سکون سے میڈیکل حاصل کر لوں۔
آپی کی عمر ڈھلنے لگی، مجھ کو ڈاکٹر بننے میں سات برس لگ گئے۔ میری بہن کے سر میں چاندی کے بال خال خال چمکنے لگے تھے۔ وہ بے پاکیزہ خیالات کی تھیں، پانچ وقت نماز پڑھتی تھیں، ماں نے ایسا صدمہ دیا تھا کہ خود ان کو اب عشق ومحبت کے تذکروں تک سے نفرت ہوتی تھی۔
انسانی فطرت کے کچھ تقاضے ہوتے ہیں جن کو اگر دبا دیا جائے تا وہ کسی صورت میں ظاہر ہو نے لگتے ہیں۔ آپا کو پینتیس سال کی عمر میں ڈپریشن نے آلیا۔ وہ عجیب قنوطی سی ہو گئیں۔ میں ڈاکٹر ی پڑھ رہی تھی، میں سمجھتی تھی کہ شادی نہ ہونے کی وجہ سے آپا کو یہ ڈپریشن ہوتا ہے، کیونکہ کوئی بھی انسان تنہا نہیں رہ سکتا لیکن آپا کے شعور کو ایسی کوئی وجہ قابل قبول نہ تھی۔ وہ یہی کہتی تھیں مجھ کو کیا ہوا ہے، عمر رسیدہ ہو رہی ہوں تو سنجیدہ ہو گئی ہوں، آہستہ آہستہ ان کا مرض بڑھنے لگا، میں ڈاکٹر کی نظر سے ان کو دیکھ رہی تھی۔ میں نے انہیں مجبور کر ناشروع کر دیا کہ وہ اب تنہائی کی زندگی ختم کریں اور شادی کا سوچیں۔ وہ بوسیدہ اور بے رنگ لباس پہنتی اور بال تک ڈھنگ سے سنوارنا چھوڑ دےئے تھے۔
میں نے با لآ خر انہیں قائل کر لیا کہ میری منزل قریب آچکی ہے، اب مجھے ان کی محنت ومشقت کی نہیں، ان کو میری محنت سے کمائی دولت کی ضرورت ہے۔ بہرحال آپی نے میری خوشی کی خاطر بڑی مشکل سے شادی کے لئے حامی بھرلی۔
ایک دن جبکہ وہ اچھے موڈ میں تھیں، میں نے ان کو ٹٹولا۔ کہنے لگیں۔ نا بینا پھوپھی کے بیٹے جو دبئی میں رہا کرتے تھے اور نام زاہد تھا وہ جب پچھلے دنوں آئے تھے مجھے پر پوز کیا تھا۔
میں خوشی سے کھل اٹھی۔ ارے آپا پھر دیر کس بات کی وہ تو بہت خوبصورت ہیں اور ابھی تک کنوارے ہیں، دولت مند ہیں ان کی والدہ ہمارے ساتھ رہتی ہیں بھلا کیا قباحت ہے۔ ایسے اچھے رشتے کہاں ملتے ہیں، میں آپا کے گلے لگ گئی۔ کون بات کرے گا۔ آپا نے نظریں جھکا کر سوال کیا۔ میں بات کروں گی اور کون کرے گا۔ آپ مجھ پر چھوڑ ئیے میں نے فوراً زاہد بھائی کا نمبر گھمایا اور ان کو دبئی فون کر دیا۔ میں نے کہا زاہد بھائی جلدی آئیے۔
کیوں خیر تو ہے اماں جان کو تو کچھ نہیں ہوا۔ میری والدہ ٹھیک ہیں نا؟
ہاں وہ بالکل ٹھیک ہیں، ایک خوشخبری ہے بس آپ آئیے تو۔
اگلے ہفتے وہ آگئے۔ میں نے کہا بے شک میں عمر میں آپ لوگوں سے چھوٹی ہوں لیکن اب میں بڑی بن کر بات کر رہی ہوں۔ آپ نے آپا کو ’’پرپوز‘‘ کیا ہے تو ہم کو یہ رشتہ منظور ہے۔ میں آپا کو دلہن بنتے دیکھنا چاہتی ہوں۔
یوں آپا کی رضا مندی سے میری پیاری بہن گل بہشت کی شادی زاہد خان سے ہو گئی اور وہ بیاہ کر دبئی چلی گئیں۔
اب گھر میں، میں اور زاہد بھائی کی والدہ یعنی نابینا پھوپھی رہ گئیں۔ میں ایم بی بی ایس پاس کرنے کے بعد ہاؤس جاب بھی کر چکی تھی، جب آپا کی شادی ہوئی ان دنوں میں اسپیشلائز کر رہی تھی۔
میں نے خصوصی شعبے میں مہارت کے لئے تیاری شروع کر دی اور ساتھ ہی اسپتال بھی جاتی رہی، اس دوران ایک ملازمہ پھوپھی کے پاس موجود رہتی جو کھانے بھی پکاتی تھی اور پھوپھی کی دیکھ بھال بھی کرتی تھی۔
آپا کی شادی کو چھ برس گزر گئے تھے مگر اولاد نہ ہوئی، میں نے گائنی میں اسپیشلائز کیا تھا اور اب باقاعدہ اسپتال میں بطور گائناکالوجسٹ تعینات تھی۔
اس بار آپا آئیں تو بہت مرجھائی ہوئی اداس اور بیمار لگ رہی تھیں، میں نے پوچھا کیا ہوا ہے آپا۔ خیر تو ہے مجھ کو آپ بیمار لگ رہی ہیں۔ کہنے لگیں ہاں ٹھیک ہوں بس کبھی کبھی دورہ پڑ جاتا ہے۔
کیسا دورہ؟ میں نے سوال کیا۔
بس پتا نہیں چلتا عجیب کیفیت ہو جاتی ہے۔ ہاتھ پاؤں مڑ جاتے ہیں کبھی بے ہوش ہو جاتی ہوں۔
آپ فکر نہ کریں ، میں کل ہی آپ کو اسپتال لے جاؤں گی اور آپ کا سارا چیک اپ ہو جائے گا۔ انشااللہ اولاد بھی ہو گی۔
وہ یہ سن کر پریشان ہو گئیں، کہنے لگیں۔ ہر گز نہیں میں اسپتال نہیں جاؤں گی اور نہ چیک اپ کراؤں گی میں ٹھیک ہوں۔
آپی کو اس بار میں نے اصرار کر کے کچھ عرصے کے لئے روک لیا اور زاہد واپس دبئی اپنی جاب پر چلے گئے۔ بولے جب آنا چاہیں گی تو فون کر دیں میں آکر لے جاؤں گا۔
آپا کے ساتھ زاہد بھائی کی زندگی بظاہر بہت پر مسرت اور خوشگوار تھی۔ دونوں میں بڑی انڈراسٹینڈنگ تھی۔ یہ تھی بھی ان کی مرضی اور پسند کی شادی اور زاہد بھائی بہت خوبصورت لمبے چوڑے ، قد آور بالکل انگریز لگتے تھے۔
زاہد بھائی کے جانے کے چند روز بعد ہی آپا کو دورہ پڑ گیا۔ میں گھبرا گئی فوراً ان کو اسپتال لے گئی جہاں ہمارے پروفیسرز صاحبان موجود تھے، ان کو دکھایا۔ انہوں نے کہا کہ ایک بات کہوں برا تو نہ مانو گی۔
’’ نہیں سر آپ میرے استاد ہیں۔ کہےئے ۔‘‘ کہنے لگے بے ہوشی میں پروفیسر نازلی نے چیک اپ کیا ہے، آپ کی بہن ابھی تک غیر شادی شدہ ہیں۔ ان کی شادی کرادیں اور کوئی بیماری نہیں ہے۔ یہ سن کر میں ہکا بکا رہ گئی۔
جب آپی ہوش میں آئیں میں نے کہا۔ آپی۔۔۔۔۔یہ کیا معاملہ ہے پروفیسر نازلی کہتی ہیں کہ آپ۔۔۔۔۔۔۔۔؟
انہوں نے میرے منہ پر ہاتھ رکھ دیا کہنے لگیں۔ خدا کے لئے مجھ کو اور رسوا نہ کرنا۔ میں نے زاہد کے لئے قربانی دی ہے۔ ان سے پہلی رات وعدہ کیا تھا کہ ان کا راز ہمیشہ راز رہے گا۔ اب تم کیوں مجھے اور اپنے بہنوئی کو ذلیل کرنے پر تلی ہو۔
آپا کی بات سن کر میں ششدر رہ گئی۔
میں نے پھر ان کا اولاد کے لئے کوئی ٹیسٹ نہ کرایا کیانکہ ان میں کوئی نقص نہ تھا اور جس میں نقص تھا میری بہن ہر حال میں اس کا پردہ رکھنا چاہتی تھیں۔
آفرین ہے آپا پر انہوں نے تمام عمر صبر اور پاک دامنی سے زندگی بسر کردی مگر لوگوں کی زبانیں پھر بھی بند نہ ہوئیں۔ ان کے منہ پر عجب کلمات تھے۔
ان کے سسرالی رشتے دار کہتے تھے خدا جانے زاہد کو کیا سوجھی کہ جنوں کی ماری لڑکی سے شادی کر لی۔ یہ جن ہی کا سایہ ہے کہ دورے پڑتے ہیں اور ایسے اذیت ناک دورے دل ہلا دینے والے اف اللہ۔۔۔۔۔۔۔ ان کی بیماری ایسی ہے کہ ڈاکٹر، حکیم ، پیر فقیر کسی طبیب کے پاس بھی ان کا علاج نہیں ہے، ہائے بے چاری گل بہشت۔ نام تو اس کا بہشت ہے اور زندگی زاہد کی اس بیماری نے دوزخ بنا دی ہے۔
آپا سسرال میں جنوں والی مشہور تھیں کہ ان پر جن کا سایہ ہے۔ لیکن میرے سوا آپا کا راز کسی کو پتا نہیں تھا۔ انہوں نے مجھے قسم دے کر منع کر دیا تھا کہ کسی کو نہ بتانا۔۔۔۔۔۔ لیکن۔۔۔۔۔۔ آج جبکہ وہ اس دنیا میں موجود نہیں ہیں، سوچتی ہوں کہ شاید کچھ لوگ بنے ہی قربانیاں دینے کے لئے ہوتے ہیں۔ پہلے میرے لئے قربانی دی، پھر شریک زندگی ملا اس نے بھی ان سے عمر بھر کے لئے اپنی ناموس کی قربانی مانگ لی، خدا جانے میری آپا بیچاری کا کیا قصور تھا۔


About shakeel

I live in Lahore, Pakistan