پھلوں کی فریاد

کیلا: مجھے بچے بوڑھے، جن کے دانت نہیں ہوتے وہ بھِی کھا جاتے ہیں جبکہ دوسرے پھل اپنی کچھ سختی کے باعث ان بے دانتوں سے بچ جاتے ہیں۔ مجھے تو ہر چھوٹا، بڑا، بوڑھا اور دودھ کے دانتوں والا بھی ہپ ہپ کر کے کھا جاتا ہے۔ لیکن مجھے ایک بڑی خوشی حاصل ہے […]

پیسہ

ثناء اور حنا دونوں بہت اچھی دوست تھیں۔ ایک ساتھ اسکول آتی جاتیں۔ ثناء کا تعلق مذہبی گھرانے سے تھا، اس کے والد کلرک تھے۔ اس کے باوجود وہ چاہتے تھے کہ ان کے بچے تعلیم حاصل کریں جبکہ حنا کے والد ایک ادارے میں افسر تھے ان کے یہاں دولت کی ریل پیل تھی۔ […]

دہلیزِ بقا – صفحہ نمبر 1

جب کبھی میں پریشان ہوا کرتا تھا تو کراچی کی ایک بندرگاہ پر چلا جاتا وہاں جا کر مجھے بہت سکون ملتا تھا ایسا لگتا تھا جیسے کوئی انجانی طاقت مجھے اپنی جانب کھینچ رہی ہے کئی گھنٹوں بیٹھا سمندر کو تکتا رہتا کبھی خاموش سمندر میں پھیلا سکوت تو کبھی شور مچاتی لہروں کی […]

ٹرین کا سفر

ہم اوکاڑہ میں اپنی نانی اماں کے گھر گرمیوں کی چھٹیاں منانے کے لئے آئے تھے، اب واپس جانے کی تیاری کر رہے تھے کہ اچانک جانے کے عین وقت ہم بچوں کو ٹرین میں جانے کا خیال آگیا اور ہم اپنے ماما پاپا کو ٹرین میں واپس ملتان جانے پر آمادہ کرنے لگے ، […]

مسیحا

2012 ء اختتام کو پہنچا تو عمر کے کزنز اور اس نے مل کر ایک پلان بنایا۔ وہ سب چاہتے تھے کہ کچھ ایسا کریں کہ 2012 ء یاد گار بن جائے۔ انہوں نے سوچا کہ کیوں نا ایک ڈنر کا اہتمام کیا جائے جس میں تمام رشتہ داروںکو مدعو کیا جائے، چنانچہ انہوں نے […]

مولوی صاحب کا گھر

“ارے ۔۔۔ آج تم نے دعوت میں مولوی حبیب کے گھر والوں کو دیکھا؟ ان کی عورتیں کیسے عمدہ لباس پہنے بیٹھی تھیں۔ ماں نے اچھا کاٹن کا سوٹ پہن رکھا تھا اور بیوی نے بھی مشین کی کڑھائی کا جارجٹ کا سوٹ پہنا تھا۔ اور وہ بیٹی کا سوٹ ۔۔۔ ارے وہ تو وہی […]

اللہ سے زیادہ جراثیموں کا خوف

گاڑی کا وہ مکینک کام کرتے کرتے اٹھا۔ اس نے پنکچر چیک کرنے والے ٹب سے ہاتھ گیلے کئے اور ویسے ہی جا کر کھانا کھانا شروع کر دیا۔ میں نے اس سے کہا اللہ کے بندے “اس طرح گندے ہاتھوں سے کھانا کھائو گے تو بیمار پڑ جائو گے۔ ہزاروں جراثیم تمہارے پیٹ میں […]